’سیلاب زدگان موت کا انتظار نہیں کر سکتے‘

Image caption سیلاب سے آنے والی تباہی کا منظر

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع وادی اورسون چند دن پہلے تک قدرتی حسن کا شاہکار تھی لیکن رواں ماہ جولائی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نےاس گاؤں کا سارا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے جہاں اب لوگوں کے لیے رہنا خطرے سے خالی نہیں۔

چترال شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی اورسون کے لیے دو جولائی کی رات موت کا پیغام لے کر آئی۔

Image caption یہ پتھر ندی میں بہہ کر آئے ہیں

گاؤں کے بیشتر مرد عشا کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں تھے کہ اچانک سیلاب نے سارے علاقے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا جس سے درجنوں مکانات، مسجد، دینی مدرسہ اور واحد سکیورٹی چیک پوسٹ پانی میں بہہ گئے۔

سیلاب کے باعث علاقے کے کئی سرسبز باغات اور کھیت بھی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

ولیج کونسل اورسون کے ناظم سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ پانی اتنی تیزی سے اوپر چڑھا کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ انھوں نے کہا کہ ’یقینًا وہ قیامت کے منظر جیسا تھا جس میں بڑے بڑے پتھروں کی گڑگڑاہٹ کی آوازیں تھیں۔‘

Image caption اس دیوہیکل چٹان کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ پانی اسے بھی بہا کر لا سکتا ہے

سیلاب کی وجہ سے علاقے کا پورا نقشہ ہی تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے گاؤں کے تمام راستے اور گزرگاہوں کے نام و نشان مٹ گئے ہیں جہاں اب گاڑیوں کی آمد و رفت ناممکن ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ گاؤں کی زمین کی سطح بھی ناہموار ہو کر بلند ہو گئی ہے اور مقامی آبادی نیچے رہ گئی ہے جس سے مقامی باشندوں کے مطابق مزید سیلاب کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

وادی کے وسط میں ایک دیوہیکل چٹان بھی نظر آئی جسے دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ پانی اتنا بڑا پتھر بھی بہہ کر لا سکتا ہے۔

ولیج کونسل اورسون کے ناظم کے مطابق ’یہ علاقہ اب ہمارے لیے غیر محفوظ ہو گیا ہے کیونکہ آبادی نیچے رہ گئی ہے اور اب یہاں معمولی سی بارش سے بھی سیلاب کا خطرہ ہر وقت موجود رہے گا۔‘

ان کے مطابق سیلاب اپنے ساتھ جو ملبہ لے کر آیا ہے اس کو ہٹانا کسی کی بس کی بات نہیں۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو اب فوری طور پر اس آبادی کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہیے ورنہ مزید نقصانات کا خدشہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن اب تک اس ضمن میں کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

اسی بارے میں