مشرف کی جائیداد ضبط اور اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم

پرویز مشرف تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پرویز مشرف کے وکلا نے کہا کہ اگر عدالت چاہتی ہے کہ وہ عدالت میں نہ آئیں تو انھیں لکھ کر دیا جائے

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ان کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے منگل کو اس مقدمے کی سماعت کی۔

٭مشرف بنو گے یا ایان علی

٭ مشرف کو باہر کیوں جانے دیا گیا؟

سماعت کے بعد عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کی پاکستان میں جتنی بھی جائیداد ہے اُسے ضبط کر لیا جائے اور اس ضمن میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے کلکٹر اور ڈپٹی کلکٹر متعلقہ سیشن جج صاحبان کے پاس اس کی تفصیلات جمع کروائیں۔

عدالت نے سٹیٹ بینک کو بھی حکم دیا ہے کہ ملزم کے پاکستان کے مختلف بینکوں میں موجود اکاؤنٹس کو منجمد کر دیا جائے اور اس بارے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

حکومت نے عدالتی حکم پر پرویز مشرف کی پاکستان میں جائیداد سے متعلق تفصیلات جمع کروا دی ہیں۔

تاہم اس بارے میں ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے اُن کے موکل کی جائیداد کی تفصیلات سنہ 2008 میں الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی اثاثوں کی تفصیلات سے حاصل کی ہیں جبکہ اس کے بعد سابق آرمی چیف نے اپنی تمام تر جائیداد اپنی بیوی اور بیٹی کو تحفتاً دے دی ہے۔

ملزم کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو جائیداد کسی کو گفٹ کر دی گئی ہو تو اسے کیسے ضبط کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے ملزم کی عدم موجودگی میں اس مقدمے کی کارروائی جاری رکھنے سے متعلق استغاثہ کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک ملزم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا یا پرویز مشرف خود کو قانون کے سامنے پیش نہیں کرتے اس وقت تک اس مقدمےکی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اس وقت دبئی میں ہے اور اگر عدالت چاہے تو ملزم کا بیان انٹرنیٹ کے ذریعے ریکارڈ کروا سکتی ہے جس پر بینچ کے سربراہ مظہر عالم میاں خیل کا کہنا تھا کہ ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد 342 کے تحت اس کا بیان ریکارڈ کرنا استغاثہ کی ذمہ داری نہیں ہے جس میں بینچ میں شامل جسٹس یاور علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے پہلے خود ہی ملزم پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی اب وہ کہہ رہے ہیں کہ سکائپ کے ذریعے ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں