’یہ آن لائن نفرت کہیں حقیقت کا روپ نہ دھار لے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں سوشل میڈیا پر مقبولیت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کے ’غیرت کے نام پر‘ قتل نے ملک میں خواتین کے حقوق بشمول انٹرنیٹ پر اپنی رائے کے اظہار کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔

26 سالہ قندیل بلوچ کو اکثر آن لائن تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور انھیں اپنے پیغامات پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں۔

لیکن پاکستان میں عام خواتین بشمول صحافی بھی اپنے خیالات کے اظہار پر آن لائن طنز اور تضحیک کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہاں بی بی سی اردو کے لیے کام کرنے والی چار صحافی اپنے تجربات بیان کر رہی ہیں۔

عنبر شمسی - ’کہیں یہ آن لائن نفرت حقیقی شکل میں سامنے نہ آ جائے‘

چند ماہ قبل میں نے بی بی سی اردو کے لیے قندیل بلوچ پر ایک کہانی لکھی جس میں انھیں فتنہ انگیز شخصیت کی بجائے ایک قسم کی ثقافتی مثال قرار دیا گیا۔

اس کا نتیجہ شدید تضحیک کی شکل میں برآمد ہوا۔ بی بی سی اور مجھ پر الزام لگا کہ ہمارے پاس کوریج کے لیے کیا اور کچھ نہیں کہ ہم ایک ایسی خاتون کی کوریج کر رہے ہیں جو ملک کے لیے ’باعثِ شرمندگی‘ ہے۔

مسئلہ کہانی اور قندیل بلوچ کی کہانی کا نہیں تھا بلکہ یہ اس برے ردعمل کا حصہ تھا جس کا سامنا خواتین کو آن لائن کرنا پڑتا ہے۔

مجھے ایک خاتون صحافی کے طور پر ہراساں کیے جانے کا ذاتی تجربہ ہے۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ فساد کی ایک خبر کرنے پر مجھے خنجروں کی تصاویر بھیجی گئیں اور ایک خاتون ہونے کے ناتے جنسی نوعیت کے پیغامات ملنا تو عام ہیں۔

اگرچہ میں اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز کو جس حد تک ممکن ہو کنٹرول کرتی ہوں مگر میرے بارے میں ’میمز‘ بنا کر انٹرنیٹ پر ڈالے گئے ہیں جن میں فیس بک سے میری نجی معلومات استعمال کی گئی ہیں۔

پاکستان میں ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ڈیجیٹل سطح پر پائی جانے والی یہ نفرت کا اثر کہیں حقیقی زندگی میں بھی ہمارے سامنے نہ آ جائے۔

صبا اعتزاز - ’مجھ پر تیزاب پھینکنے کی دھمکی دی گئی‘

میں دو زینتوں کی کہانی بیان کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک وہ جو زرقِ خاک ہوئی اور دوسری جس کا کوئی سراغ نہیں جیسے کہ وہ ہوا میں تحلیل ہوگئی ہو۔

لاہور میں اپنی ماں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر جلائی جانے والی زینت رفیق اور مبینہ طور پر لاپتہ کر دی جانے والی نوجوان صحافی زینت شہزادی کی کہانیوں پر کام کرنے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کو کس قسم کی دشواریوں کا سامنا ہے۔

میں نے جب یہ کہانی سنانے کی کوشش کی تو خطرہ پیدا ہو گیا کہ میں خود ایک کہانی نہ بن جاؤں۔ مجھے فیس بک اور ٹوئٹر پر مسلسل اور منظم ’ٹرولنگ‘ کا سامنا کرنا پڑا اور ناقدین کا ہدف صرف میری کہانی نہیں تھی۔

ان کے طنز ذاتیات پر مبنی تھے۔ ابتدا بدکلامی سے ہوئی اور پھر کسی نے میرا فون نمبر اس پیغام کے ساتھ شائع کر دیا کہ مجھے ’سبق سکھانا ضروری ہے۔‘

ان آن لائن حملوں کا تعلق کسی بھی طرح سے میری صحافت سے نہ تھا بلکہ صرف میری صنف ہی ان کا نشانہ تھی۔

پھر مجھے ایک پیغام ملا۔ ’بہت شوق ہے رپورٹنگ کا۔ میں تمہارے ماضی پر ایک تحقیقاتی رپورٹ کر رہا ہوں۔ دیکھو کیا پتہ چلتا ہے۔‘

اس صورتحال میں مجھے اپنے لیے، اپنے خاندان اور دوستوں کے لیے باقاعدہ خطرہ محسوس ہونے لگا۔ میں زیادہ احتیاط سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سکیورٹی سیٹنگز کا جائزہ لینے لگی اور یہ خوف مجھے ستانے لگا کہ کسی کی میری ذاتی تصاویر اور معلومات تک رسائی ممکن ہے۔

یہ دم گھٹنے جیسی حالت ہوتی ہے جب آپ ایک ہی وقت میں خوف کا شکار ہوں اور آپ کو غصہ بھی آ رہا ہو۔

میں جواب دینا چاہتی تھی۔ میں آن لائن پر حملے کرنے والوں کو بتانا چاہتی تھی کہ میں بھی ایک انسان ہوں لیکن انھیں مزید مشتعل کرنے کا خیال مجھے اس سے باز رکھتا تھا چنانچہ میں خاموش ہوگئی۔

حال ہی میں مجھے ایک شخص کا فون آیا۔ اس نامعلوم شخص نے کہا اسے میرا کام پسند نہیں اور وہ میرے چہرے پر تیزاب پھینک دے گا۔ اس نے میرا پتا مجھے بتایا اور کہا ’تم خواتین پر تیزاب پھینکنے کی خبریں دیتی ہوں۔ تمہیں اس چیز کا مزا چکھاتے ہیں کہ یہ ہوتا کیا ہے۔‘

پاکستان میں ہر دوسرے دن خواتین پر تیزاب سے حملے کی خبر آتی ہے۔ میں یہ جانتی ہوں کہ یہ مہلک چیز باآسانی دستیاب ہے اور یہ بھی کہ ایسی دھمکی دے کر اس پر عمل کرنا کتنا آسان ہے۔

میں آج بھی ایسی خبروں کی رپورٹنگ کے لیے تیار ہوں لیکن ساتھ ہی ساتھ خبردار رہنا بھی میری مجبوری بن گیا ہے۔

ارم عباسی - ’میں بزدل نہیں مگر اس وقت احساس بےبسی کا تھا‘

چاہے وہ کسی سرکاری محکمے میں عملے کی نظریں ہوں یا کسی جلسے میں سیاسی کارکن کے ہاتھ، بطور صحافی مجھے بارہا ہراساں کیا گیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مجھ میں وہ اعتماد آ گیا کہ میں اس عمل میں ملوث افراد کو سرعام شرم دلا سکوں۔

لیکن اب مجھے آن لائن بھی ایسی ہی بدسلوکی کا سامنا ہے۔ حال ہی میں مجھے فیس بک پر قندیل بلوچ کے بارے میں ایک پیغام شائع کرنے پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

تبصرہ کرنے والے ایک شخص کو میرا خاندانی حسب نسب خراب دکھائی دیا تو ایک کا سوال تھا کہ جب میں بغیر آستین کی قمیض پہنتی ہوں تو میرا تعلق کسی باعزت گھرانے سے کیسے ہو سکتا ہے۔

ایک اور مبصر نے خیال ظاہر کیا کہ میرا لباس ’خراب‘ اور ’غیر اسلامی‘ ہے۔

اس قسم کے تبصرے تو مجھے اب پریشان نہیں کرتے لیکن جب آپ کو کافر قرار دے دیا جائے تو معاملہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔

احمدی اقلیت کے بارے میں خبریں دینے پر میرے ساتھ کئی بار ایسا ہو چکا ہے۔

توہینِ مذہب کے ایک ملزم کے بارے میں خبر دینے پر مجھے دھمکیاں ملیں۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ میرے گھر اور دفتر کا پتہ جانتے ہیں۔

اس کے بعد جب بھی میں گھر جاتی یا دفتر کا رخ کرتی تو خوفزدہ رہتی اور ساتھ ہی ایک بےبسی کا احساس تھا کہ لوگ صرف تصویر کا دوسرا رخ دکھانے پر مجھ سے نفرت کیوں کر رہے ہیں۔

میں انٹرنیٹ کی دنیا میں خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرتی ہوں۔ مذہب کے بارے میں یہاں بات یا تبصرہ کرنا موت کی دھمکیاں لا سکتا ہے۔

میں بزدل نہیں۔ جہاں آج میں کھڑی ہوں وہاں پہنچنے کے لیے حالات سے لڑی ہوں لیکن یہ وہ معاملات ہیں جو آج بھی مجھے بعض اوقات ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

نوشین عباس - ’مذہب اور ملک سے غداری کے الزامات لگے‘

کچھ عرصہ قبل میں نے احمدی اقلیت پر ایک خبر کی جنھیں ملک میں ان کے عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن تمام ورژنز کے لیے بنائی جانے والی اس خبر میں ایک جارحانہ ماحول میں بقا کی جنگ لڑنے کے تجربات بیان کیے گئے تھے۔

تصویر کے دونوں رخ دکھانے یعنی احمدیوں اور ان کے مخالفین کا موقف دینے کے باوجود مجھے ملک بھر سے دھمکی آمیز پیغامات اور فون کالز آنے لگیں اور کہا گیا کہ میں نے احمدیوں کے متعلق ہمدردانہ رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔

جب میری یہ کہانی انگریزی میں شائع ہوئی تو مجھے زیادہ ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن اردو میں اشاعت کے بعد معاملہ ہی کچھ اور ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر اس کہانی کے لنکس اشاعت کے ایک گھنٹے بعد ہی اتارنا پڑے کیونکہ اس پر کیے جانے والے تبصرے انتہائی دھمکی آمیز تھے۔

ان تبصروں میں کہیں قتل کی دھمکیاں تھیں تو کہیں کافر قرار دے کر ملک اور دین سے غداری کے الزامات لگائے گئے۔

اس قسم کے تجربات نہ صرف آپ کو کچھ دیر کے لیے بےبسی کا احساس دلاتے ہیں بلکہ یہ خوف بھی طاری ہوتا ہے کہ کہیں کوئی قانون کو ہاتھ میں لینے کا فیصلہ ہی نہ کر لے۔

اسی بارے میں