پاکستانی فوج کے زیر انتظام ریڈیو پر پیمرا سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی ہے

سپریم کورٹ نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیر انتظام چلنے والے ایف ایم ریڈیو سٹیشن اور سوشل میڈیا کے بارے میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی طرف سے فوج کے زیر انتظام چلنے والے ریڈیو کے بارے میں دائر کی گئی ایک متفرق درخواست پر جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پیمرا کے حکام سے جواب طلب کیا ہے۔

٭ فوج ہر سطح پر احتساب کی حمایت کرے گی‘

٭ شیر کا احتساب کون کرے گا؟

اس متفرق درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکومت اور پیمرا کو حکم دے کہ وہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیر انتظام چلنے والے ایف ایم ریڈیو سٹیشن اور اس پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات کے بارے میں آگاہ کرے۔

عاصمہ جہانگیر نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا آئی ایس پی آر کو ریگولیٹ کرنے سے قاصر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متفرق درخواست عاصمہ جہانگیر کی طرف سے فوج کے زیر انتظام چلنے والے ریڈیو کے بارے میں دائر کی گئی

اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس پی آر کے حکام سے میڈیا مہم پر عوامی پیسہ خرچ ہونے کے بارے میں پوچھا جائے، جس پر بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پیمرا کے حکام سے جواب طلب کر لیتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ ان ایف ایم ریڈیو چینلز پر جتنے بھی اخراجات ہوتے ہیں اُن کی آمدن کے ذرائع بھی بتائے جائیں۔

درخواست گزار عاصمہ جہانگیر نے الزام عائد کیا ہے کہ آئی ایس پی آر نے متعدد سوشل میڈیا سیل قائم کر رکھے ہیں جو مختلف افراد کو بدنام کرنے کے لیے اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں۔

اس متفرق درخواست میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تحت ہر شہری کا حق ہے کہ وہ آئی ایس پی آر کے زیر انتظام چلنے والے میڈیا سیل اور سوشل میڈیا پر چلنے والے اداروں پر خرچ ہونے والے اخراجات کی تفصیلات معلوم کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے مختلف نجی ٹی وی چینلز پر عوامی پیغامات نشر کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کی

اُنھوں نے کہا کہ پیمرا کے حکام اس بارے میں امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں اور آئی ایس پی آر کے زیر انتظام چلنے والے ریڈیو چینلز کی نگرانی کرنے سے انکار کر رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس پیمرا مختلف میڈیا پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کرتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کے تین مراکز ہیں جو میڈیا اور دوسری معلومات کنٹرول کرتے ہیں۔

ان میں سے ایک حکومت کے زیر انتظام میڈیا ہے جس میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ بھی ہے جبکہ دوسرا مرکز پیمرا کا ادارہ ہے جو تمام نجی میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان دونوں مراکز کے برعکس فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیر انتظام چلنے والے ریڈیو سٹیشنز تمام پابندیوں سے آزاد ہیں۔

ان کے مطابق ایف ایم چینل 96:00 اور ایف ایم 89:04 پچپن سے زیادہ شہروں میں سنا جاتا ہے جو کہ آئی ایس پی آر کے زیر انتظام ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیمرا ان ایف ایم سٹیشنز کی نگرانی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے مختلف نجی ٹی وی چینلز پر عوامی پیغامات نشر کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

اُنھوں نے کہا کہ تمام چینلز سے کہا ہے کہ وہ اپنی 24گھنٹے کی نشریات میں سے دس فیصد عوامی پیغامات کے لیے مختص کریں۔

ان درخواستوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں