کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے تمام 41 نشستوں پر ہونے والے دسویں عام انتخابات میں اب تک کے غیر حتمی نتائج کا اعلان کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 41 میں سے 31 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگئی ہے، جس کے ساتھ ہی اس نے دو تہائی اکثریت بھی حاصل کر لی ہے۔

اس کے بعد مسلم لیگ ن کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت بنانے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ خیال رہے کہ سنہ 1991 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی جماعت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اتنی بڑی تعداد میں نشستیں حاصل کی ہیں۔

صحافی اورنگزیب جرال کے مطابق اب تک کے غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو 31، پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس نے تین تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے صرف دو نشستوں پر ہی کامیابی حاصل کر پائی جبکہ جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور آزاد امیدوار ایک، ایک نشست حاصل کر پائے۔

ان عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، مسلم کانفرنس اور جموں و کشمیر پیپلزپارٹی، جمعیت علما اسلام کے علاوہ 19 جماعتوں نے حصہ لیا۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے 219 جبکہ 204 آزاد امیدواروں نے بھی حصہ لے لیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن میاں نعیم اللہ کے مطابق اس مرتبہ انتخابات میں ووٹوں کا تناسب 65 فیصد سے زائد رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مسلم لیگ ن کو الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا: ’اگرچہ روایتی طور پر اسلام آباد میں برسرِ اقتدار جماعت ہی اے جے کے میں انتخابات جیتتی ہے، لیکن میں پھر بھی پی ایم ایل این کو جیت پر مبارکباد دینا چاہوں گا۔‘

اس کے برخلاف اس خطے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سردار جاوید ایوب نے صحافی اورنگزیب جرال سے بات کرتے ہوئے ان انتخابات کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے یہ نتائج بھاری رقوم کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔

نتائج تسلیم نہ کرنے کی روایت

مسلم لیگ ن کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے والے تحریک انصاف کے سربراہ اور اس خطے میں سابق وزیراعظم بیرسٹر سطان محمود نے بھی اپنے مخالفین پر الیکشن کے دوران پیسوں کی تقسیم کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کےسربراہ راجہ فاروق حیدر نے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے الزامات کی سختی تردید کی ہے۔ اس خطے میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعتوں کی عمومی روایت رہی ہے کہ انھوں نے پہلے مرحلے میں کبھی بھی نتائج تسلیم نہیں کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral

اس خطے میں خودمختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (سردار صغیر) نے پہلے ہی سے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس خطے کے آئین اور قانون کی رو سے ایسی تنظیموں یا افراد پر انتخابی عملی میں شرکت کی ممانعت ہے جو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق پر یقین نہیں رکھتیں۔

یہاں رائج انتخابی عمل پر جہاں الحاق پاکستان کی سیا سی و مذہبی جماعتیں سوال اٹھاتی رہی ہیں، وہیں خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ انھیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔

پابندی کا اطلاق انتخابی عمل میں بطور امیدوار حصہ لینے پر بھی ہوتا ہے کیوں کہ کشمیر کے اس علاقے کے انتخابی قانون کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت امیدوار کے لیے ایک ایسے حلف نامے پر دستخط کرنا ضروری ہیں جس میں اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان، متنازع کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے اور پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر یقین رکھتا ہو۔

اسی طرح رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بھی یہ ضروری ہے کہ پاکستان سے وفاداری کے ساتھ ساتھ ریاست کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے نصب العین کی وفاداری کا بھی حلف اٹھایا جائے۔

اس خطے میں عمومی وہی جماعت حکومت بناتی ہے جسے اسلام آباد کی آشیرباد حاصل ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aurangzeb Jarral

اسی بارے میں