’ماریہ نے خود کشی نہیں کی، اسے جلایا گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے حقائق جاننے کے لیے بنائے گئے مشن کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مری کی رہائشی ماریہ صداقت نے خود کشی نہیں کی تھی بلکہ اسے جلا کر ہلاک کیا گیا تھا اور اس معاملے میں پولیس کی تحقیقات میں خامیاں تھیں۔

٭ ماریہ نے خود کشی کی تھی: پولیس

اس سال مئی میں ماریہ کو زخمی حالت میں اسلام آباد کے پمز ہسپتال لایا گیا جہاں وہ کچھ روز بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی تھیں۔

ابتدائی معلومات کے ماریہ صداقت کو رشتے کے تنازعے کی وجہ سے مبینہ طور پر چار ملزمان نے تشدد کے بعد انھیں آگ لگا کر کھائی میں پھینک دیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ایک تفتیشی ٹیم کا حکم دیا تھا جس نے اس واردات کو خود سوزی قرار دیا اور اس کے بعد مقدمے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان ضمانت پر رہا ہو گئے۔

پولیس کے مطابق ماریہ نے دلبرداشتہ ہو کر خود کو آگ لگا لی تھی تاہم ہسپتال پہنچنے کے بعد پولیس کا موقف ہے کہ ماریہ نے ماسٹر شوکت اور دیگر افراد کے نام اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کے دباؤ کے تحت دیے جس میں ماریہ کا کہنا تھا کہ اُسے ماسٹر شوکت، اُن کے بیٹے ہارون اور دیگر دو افراد نے آگ لگائی ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس تحقیقاتی ٹیم کے مطابق جائے حادثہ سے جو شواہد اکھٹے کیے گئے اُن میں ملزمان کی موجودگی سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملے۔

پولیس کے مطابق ماریہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے اپنی رپورٹ میں اُن کے جسم پر کسی بھی قسم کے تشدد کی نفی کی ہے۔

Image caption ماریہ نے مرنے سے پہلے ہسپتال میں اپنے بیان میں ملزمان پر انھیں جلانے کا الزام لگیا تھا

تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے تین رکنی مشن نے ماریہ کے والدین سے ملاقات کی اور پولیس رپورٹ کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ بار ایسوسی ایشن کے پاس جمع کروائی۔ اس ٹیم کی ایک رکن عاصمہ جہانگیر نے بتایا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں اس طرح کا مشن تشکیل دیا گیا ہو۔

کامران مرتضیٰ بھی اس مشن کے رکن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کیس میں سب سے بڑا مسئلہ مبینہ خود کشی کا طریقہ ہے۔’زیادہ تر خواتین اپنے آپ کو جلا کر خود کشی نہیں کرتیں۔ اور اگر ماریہ نے ایسا کیا تو گھر سے باہر آ کر کیوں، گھر کے اندر کیوں نہیں۔‘

انھوں نے مزید سوال اٹھایا کہ خود سوزی کے واقعات میں ہاتھ بھی جلتے ہیں اور آگ اوپر کی طرف جاتی ہے۔ ’اگر وہ شخص پھر بھاگتا ہے تو چہرہ بھی جلتا ہے۔ اس سوال کا جواب پولیس نے نہیں دیا۔‘

آصمہ جہانگیر نے مزید بتایا کہ ماریہ کا مرنے سے پہلے آخری بیان بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسے پکڑ کر جلایا گیا تھا۔ ’وہ جلنے کے بعد چالیس گھنٹے زندہ رہی اور اس کا بیان ہے کہ چار افراد نے مجھے زمین پر لٹا کر ہاتھ پکڑے تھے، دو نے ٹانگیں پکڑیں اور پچھلی طرف سے جلایا گیا تھا۔ یہ بیان ریکارڈ پر ہے اور پولیس کے پاس ہے اور میڈیکل رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے۔‘

ان کا مزید الزام تھا کہ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے ان کو نہ اپنی رپورٹ دکھائی اور نہ کسی فون کال کا جواب دیا۔ ’پولیس کی تحقیقاتی ٹیم ایجنڈے کے ساتھ گئی تھی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے پہلے پولیس کی تفتیش ٹھیک چل رہی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جس میجسٹریٹ نے ملزمان کو ضمانت کی اجازت دی انھوں نے بھی خود سوزی کے فیصلے پر سوال اٹھائے تھے۔ اس کے علاوہ ضمانت تو سیشن جج دیتا ہے میجسٹریٹ نہیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے حقائق جاننے والے مشن کاکہنا ہے کہ وہ ماریہ کے اہلِ خانہ کو مفت وکیل فراہم کریں گے اور اس کیس کو خواتین کے خلاف تشدد کے کیس کے لیے ایک مثال بنائیں گے۔

اسی بارے میں