فوج کو کوئی ریڈیو لائسنس جاری نہیں کیا: پیمرا

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی کے ادارے پیمرا کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی فوج کو کبھی کوئی ریڈیو لائسنس جاری نہیں کیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو پاکستانی میڈیا ریگولیشن سے متعلق ایک سیمینار میں بات کرتے ہوئے پیمرا کے سینیئر اہلکار ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ پاکستان فوج کا تعلقات عامہ کا شعبہ آئی ایس پی آر ریڈیو پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ایف ایم چینلز چلا رہا ہے۔

٭ ’پیمرا کو مثال قائم کرنے کے لیے سخت سزائیں دینا ہوں گی‘

’ریڈیو پاکستان سمیت تمام سرکاری میڈیا پیمرا کے دائر اختیار میں نہیں آتا ہے۔ وہ ریڈیو پاکستان کی سروسز بڑھا رہے ہیں۔‘

بدھ کو ہی سپریم کورٹ نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے زیر انتظام چلنے والے ایف ایم ریڈیو سٹیشن اور سوشل میڈیا کے بارے میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے جواب طلب کیا تھا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی طرف سے فوج کے زیرِانتظام چلنے والے ریڈیو کے بارے میں دائر کی گئی اس درخواست میں عاصمہ جہانگیر نے ان ایف ایم ریڈیو چینلز پر اخراجات اور آمدن کے ذرائع بھی مانگے ہیں۔

پیمرا اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں تمام مذہبی ٹی وی چینلز لائسنس کے بغیر چل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other

انھوں نے اعتراف کیا کہ ابھی تک مذہبی چینلز سے متعلق کوئی پالیسی مرتب نہیں کی گئی ہے۔ ’کیو ٹی وی جیسے کئی چینل بغیر لائسنس کے عدالتوں کے حکم امتناعی کی بنیاد پر نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت پیمرا سے لائسنس یافتہ 203 ایف ایم ریڈیو چینل چل رہے ہیں جن میں سے 160 کمرشل ہیں۔

انھوں نے پاکستانی میڈیا سے متعلق ادارے کو درپیش چیلنجز کے بارے میں کہا کہ ’پاکستانی میڈیا بےلگام آزادی چاہتا ہے اور چینل ریٹنگ کی دوڑ میں جعلی خبریں چلاتے ہیں۔‘

عاصمہ جہانگیر نے عدالت عظمیٰ سے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ پیمرا کے حکام امتیازی رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور وہ آئی ایس پی آر کے زیر انتظام چلنے والے ریڈیو چینلز کی نگرانی کرنے سے انکار کر رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس پیمرا مختلف میڈیا پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کرتا ہے جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

برطانوی میڈیا ریگولیٹری ادارے ’آف کام‘ کی ماریہ ڈونڈ نے اس موقع پر بتایا کہ ان کا ادارہ 800 عملے کے ساتھ برطانیہ کے تمام میڈیا کی نگرانی کرتا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں پیمرا کے اہلکار کے مطابق ان کے عملے کی تعداد چھ سو ہے۔

ڈاکٹر مختار کا عملے کی تعداد کا دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں پیمرا کا دفتر نہ ہو تو لوگ قانون اور ضابطے کو نہیں مانتے۔

اسی بارے میں