بنوں میں’ریفرنڈم‘، چار افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Ehsan Khattak
Image caption الاسلم فاؤنڈیشن کی طرف سے بنوں پریس کلب کے سامنے ریفرنڈم کا انقعاد کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے شہر میں ایک ایسے ریفرینڈم کا انعقاد کرنے والی تنظیم کے سربراہ کو حراست میں لے لیا جس میں عوام سے سوال کیا گیا تھا کہ مضبوط پاکستان کے حق میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، نوازشریف، عمران خان یا بلاول بھٹو میں سے کون بہتر ہے۔

اس ریفرینڈم کا انعقاد پیر کو ہوا اور پولیس کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری تنظیم الاسلم فاؤنڈیشن کے سربراہ محمد اسلم کو ان کے تین ساتھیوں سمیت اشتعال انگیزی کو ہوا دینے اور امن و عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

٭ ’جنرل راحیل شریف کے بینرز لگانا حکومت کی ایک چال ہے‘

٭ فوج کے حق میں بینرز لگانے والی جماعت کے سربراہ گرفتار

بنوں شہر تھانے کے انچارج سعداللہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ایڈیشنل کمشنر بنوں دولت خان کے حکم پر الاسلم فاؤنڈیشن کے سربراہ اور ان کے تین ساتھیوں کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے بنوں سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ الاسلم فاؤنڈیشن کی طرف سے بنوں پریس کلب کے سامنے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا اور وہاں پولیس نے چھاپہ مار کر انھوں حراست میں لیا۔

انھوں نے کہا کہ پولیس نے ریفرنڈم میں استعمال ہونے بیلٹ بکس، بینرز اور دیگر سامان بھی قبضے میں لے لیا ہے۔

بنوں کے سینیئر صحافی احسان خٹک کا کہنا ہے کہ الاسلم فاؤنڈیشن کی طرف سے مبینہ ریفرنڈم کو ’عوامی جمہوری ریفرنڈم’ کا نام دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ehsan Khattak
Image caption پولیس نے ریفرینڈم میں استعمال ہونے بیلٹ بکس، بینرز اور دیگر سامان بھی قبضے میں لے لیا ہے

انھوں نے کہا کہ بنوں پریس کلب کے سامنے بینرز بھی لگائے گئے تھے جن پر جنرل راحیل شریف، میاں نواز شریف، عمران خان اور بلاول بھٹو کی تصویریں ہیں اور ان میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ مضبوط پاکستان کےلیے آپ کس کے حق میں ہیں۔

احسان خٹک نے کہا کہ ریفرنڈم میں دو سو کے قریب ووٹ بھی ڈالے گئے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ووٹ کس کے حق میں ڈالے گئے۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ الاسلم فاؤنڈیشن ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو غریب عوام کے لیے چندے اکھٹا کرتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تنظیم کے سربراہ محمد اسلم پیشے کے لحاظ سے حکیم ہیں۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے ملک بھر میں جنرل راحیل شریف کے حق میں بینرز لگانے کے الزام میں ایک غیر معروف سیاسی جماعت ’ موو آن پاکستان’ کے سربراہ میاں کامران کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان بینروں میں فوج کے سربراہ سے درخواست کی گئی تھی کہ ’ جانے کی باتیں پرانی ہوگئی ہیں ، خدا کے لیے اب آ جاؤ ۔’

خیال رہے کہ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا تھا کہ فوج یا اس کے کسی بھی ادارے کا ایسے بینرز لگانے میں کوئی کردار نہیں ہے۔

اسی بارے میں