’دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے 126 اکاؤنٹ سیل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کے کوارڈینیٹر احسان غنی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے 126 اکاؤنٹ سیل کیے گئے ہیں اور ان اکاؤنٹس سے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم ضبط کی گئی ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ دسمبر سنہ 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملک بھر میں سرچ آپریشن کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شدت پسند نکلے۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں 1800 سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

احسان غنی کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول واقعے کے بعد 411 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں 11 فوجی عدالتیں کام کر رہی ہیں۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں آنے والے ایک ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ملک بھر میں ایسے افراد کی تعداد سات ہزار سے زائد ہوگئی ہے جنھیں فورتھ شیڈول میں رکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احسان غنی کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول واقعے کے بعد 411 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے

احسان غنی کا کہنا تھا کہ ایسے افراد سے متعلق تمام صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے بارے میں ایک ڈیٹابیس بنائیں جنھیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں کو بھی شیئر کیا جائےگا۔

دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا ذکر کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس پلان کے تحت اب تک شر انگیز تقاریر کرنے اور نفرت انگیز مواد چھاپنے کے الزام میں دو ہزار تین سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ چھ ہزار سے زائد کتابیں اور نفرت انگیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

نیکٹا کے کوارڈینیر کا کہنا تھا کہ مساجد اور مدارس کی جیو ٹیگنگ شروع کر دی گئی ہے اس کے علاوہ مدارس کی رجسٹریشن کا کام حمتی مراحل میں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان اقدام کا مقصد ایسے مساجد اور مدارس کی نگرانی کرنا ہیں جہاں سے شرانگیز تقاریر کی جا رہی ہیں جس سے دوسرے فرقے کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہوں۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فورس بنادی گئی ہیں اور اگر کسی علاقے میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہاں پر سروے کروانے کے بعد کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

Image caption ’شر انگیز تقاریر کرنے اور نفرت انگیز مواد چھاپنے کے الزام میں دو ہزار تین سو سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے‘

احسان غنی کا کہنا تھا کہ موثر حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے وارداتوں میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ شدت پسندی کی وارداتوں میں بھی50 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین اس سال کے آخر تک اپنے وطن واپس چلے جائیں گےاور اس وقت پاکستان میں رجسٹرڈ افغان باشندوں کی تعداد سترہ لاکھ ہے۔ جبکہ جو افغان باشندے پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں ہیں، کے لیے اپنے وطن واپس جانے کی تاریخ 15 نومبر رکھی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں احسان غنی کا کہنا تھا کہ نیکٹا کے لیے ایک ارب اسی کروڑ روپے کی رقم مانگی گئی ہے جبکہ حکومت کی طرف سے اس مد میں دس کروڑ نوے لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ انٹیلی جینس ڈائریکٹوریٹ کے لیے 251 افراد بھرتی کیے جا رہے ہیں جبکہ جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے لیے 53 لوگوں کا ایک کور گروپ بنایاگیا ہے جو شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنے تجزیے اور سفارشات مرتب کرے گا۔

اسی بارے میں