’ساڈا حق ایتھے رکھ‘

Image caption دھرنے میں وزیرستان کے طلبا اور نوجوانوں کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے متاثرین نے امدادی رقوم میں تاخیر کے خلاف پشاور میں واقع قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے ایف ڈی ایم اے کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اہتمام کیا۔

٭معاہدہ یا قبائلیوں کو گھیرنے کی کوشش

٭شمالی وزیرستان کے مزید علاقے خالی

دھرنا پشاور کے علاقے یونیورسٹی ٹاؤن میں واقع ایف ڈی ایم اے کے مرکزی دفتر کے سامنے منعقد ہوا جس میں بنوں سے خصوصی طورپر آئے ہوئے اور پشاور میں مقیم شمالی وزیرستان کے متاثرین نے بڑی تعدا دمیں شرکت کی۔

مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ایف ڈی ایم اے کے ڈائریکٹرجنرل اور سرحدی اور قبائلی امور کے وفاقی وزیر کے خلاف نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے اس موقع پر حکومت اور سیفران کے وفاقی وزیر کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی۔ دھرنے میں وزیرستان کے طلبا اور نوجوانوں کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ شدید گرمی کے باوجود مظاہرین نے کئی گھنٹے تک ایف ڈی ایم اے دفتر کے سامنے دھرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

مظاہرین نے قبائلی روایات کے تحت ڈھول کی تھاپ پر علاقائی رقص اتنڑ پیش کرتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا۔

Image caption وزیرستان کے چار دیہات کے متاثرین کی اے ٹی ایم سیمیں بلاک ہوگئی ہیں جس کے باعث وہ بنکوں سے رقم نہیں نکال سکتے

اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی ملک خان مرجان نے کہا کہ میرعلی اور میرانشاہ سب ڈویژن سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو سے تین ہزار خاندانوں کو حکومت کی طرف سے ابھی تک امدادی رقوم جاری نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے علاقوں کو واپس نہیں جاسکتے۔

انھوں نے کہا کہ وزیرستان کے چار دیہات کے متاثرین کی اے ٹی ایم سیمیں بلاک ہوگئی ہیں جس کے باعث وہ بنکوں سے رقم نہیں نکال سکتے۔ ان کے مطابق امداد سے محروم رہنے والے زیادہ تر خاندان بنوں اور بکاخیل کیمپوں میں رہائش پزیر ہیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ایف ڈی ایم اے کے بدعنوان افسران متاثرین کی رقوم کو ہڑپ کرنا چاہیے ہیں لیکن وزیرستان کے غیور عوام کسی صورت اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مظاہرے میں شریک وزیرستان طلبا یونین کے ایک نوجوان رہنما رحیم داوڑ نے کہا کہ متاثرین گذشتہ دو سالوں سے کیمپوں میں شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ان کا حال بد سے بد تر ہوتا جارہا ہے اور ان میں اب قوت برداشت ختم ہوگئی ہے۔

Image caption دو سال پہلے وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے

انھوں نے کہا کہ حکومت اور فوج کی جانب سے ان سے جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل درامد نہیں کیا جارہا جس سے لوگوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیرستان کے لوگ فوج کے کہنے پر اپنے علاقوں سے بے گھر ہوئے لہذا اب فوج کو اپنے مہمانوں کا خیال بھی رکھنا چاہیے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے جو متاثرین کو رقوم دینے میں روکاٹ بنے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ دو سال پہلے وزیرستان میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بے گھر ہونے والے زیادہ تر متاثرین اپنے علاقوں کو واپس جاچکے ہیں تاہم واپسی کا عمل اس سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا

اسی بارے میں