مراد علی شاہ سندھ کے نئے وزیراعلیٰ نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ CM House Sindh

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نےسید قائم علی شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے لیے قائم علی شاہ کی ہی کابینہ کے رکن مراد علی شاہ کو نامزد کیا ہے۔

مراد علی شاہ اس وقت سندھ کابینہ میں خزانہ، توانائی اور پیداوار کی وزارتیں سنبھالے ہوئے ہیں۔

٭’پارٹی کے مشاورتی فیصلے پر لبیک کہتا ہوں‘

٭ مراد علی شاہ کی زندگی پر ایک نظر

پاکستان پیپلز پارٹی نے 25 جولائی کو صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل اور کابینہ میں ردو بدل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

منگل کو کراچی میں پارٹی کے اجلاس کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نےبتایا کہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی چیئرمین اور شریک چیئرمین کا استحقاق تھا اور کافی عرصے سے اس کے لیے مشاورت ہو رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’موجودہ حالات میں ہمت والے اور جوش والے رہنما کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سید قائم علی شاہ کی خدمات کو نہیں بھلایا جا سکتا اور پیپلز پارٹی سے ان کا رشتہ قائم رہے گا۔ ’بلاول بھٹو نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔‘

مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے صحافیوں کے تنقیدی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر قائم علی شاہ کی توہین نہیں کی گئی۔ 11 سال تک پارٹی کو ان پر اعتماد رہا اور حالیہ فیصلے کا اعلان بھی مکمل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔‘

اان کا کہنا تھا ابھی سندھ کابینہ میں تبدیلی پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم جب قانون کے مطابق وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں گے تو کابینہ تحلیل ہو جائے گی۔

قائم علی شاہ تین مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، وہ 1988، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔

انھوں نے اپنے بیانات میں پارٹی کے فیصلے سے اتفاق کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ دنوں تمام صوبوں کی پارٹی تنظیموں کو بھی توڑ دیا تھا اور پارٹی کی تنظیِم نو کے لیے رابطہ کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی تھیں۔

اسی بارے میں