ترمیم شدہ سائبر کرائم بل ایوانِ بالا سے منظور

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا نے ترمیم شدہ سائبر کرائم بل کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب اسے دوبارہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔

اپوزیشن کی جماعتوں کی 50 سے زیادہ ترامیم کو بھی سینیٹ میں جمعے کو منظور کیے جانے والے اس بل کا حصہ بنایا گیا ہے جس کی منظوری انفارمیشن کمیٹی کی قائمہ کمیٹی نے منگل کو دی تھی۔

٭ کیا سائبر کرائم بِل سینیٹ سے پاس ہو سکے گا؟

٭ ’مجوزہ سائبر کرائم بل شہری آزادی پر بدترین پابندی‘

٭ مجوزہ سائبر کرائم بل: سیاسی رہنماؤں اورسول سوسائٹی کے تحفظات

سائبر کرائم بل کا پہلا مسودہ قومی اسمبلی نے اس سال اپریل میں منظور کیا تھا تاہم سینیٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اس بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے والے بل پر جمعے کو اپوزیشن اور حکومت کے ایک اجلاس میں مزید غور ہوا اور حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے تجویز کردہ درجنوں ترامیم کو بل کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس اتفاقِ رائے کے بعد اسے جمعے کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جہاں اسے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ اب اسے یکم اگست سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور وہاں سے منظوری کی صورت میں صدر مملکت کے دستخطوں کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل میں نافذ ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption دہشت گردی سے متعلق سائبر جرائم میں ملوث افراد کو 14 برس قید اور 5 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی

سائبر کرائم بل میں حزبِ اختلاف کی جن اہم ترامیم کو شامل کیا گیا ہے ان کے مطابق:

  • سائبر کرائمز کے حوالے سے قائم کی جانے والی خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں عدالتِ عالیہ میں اپیل کی جا سکے گی۔
  • اس قانون پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی اور سال میں دو مرتبہ اس بل پر عمل درآمد کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔
  • اب بل میں صوبوں کے خلاف بات کرنے کو جرم قرار نہیں دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ قابل سزا جرم تھا۔
  • پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ’پیمرا‘ کی جانب سے جن ٹی وی یا ریڈیو چینلز کو لائسنس جاری کیا گیا ہے وہ اس بل کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔
  • بل میں ایسے 21 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔
  • اب کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھجوانے سے پہلے ایک تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے گا
  • سکیورٹی ایجنسیوں کی مداخلت کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ قانون سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہو۔

سینیٹ میں منظور ہونے والے بل کے مطابق دہشت گردی سے متعلق سائبر جرائم میں ملوث افراد کو 14 برس قید اور 5 کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی جبکہ نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر سات سال قید کی سزا ہوگی۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر سات سال سزا ہوگی جبکہ بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال اور موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر تین، تین سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔

موبائل فون کی سموں کی غیر قانونی فروخت پر بھی پانچ سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

اس بل کے مطابق انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا جبکہ قانون کا اطلاق صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر ریاستی سالمیت کے خلاف کام کرنے والے افراد پر بھی ہوگا۔

اسی بارے میں