سوشلستان: ’یس، یس، یس، یس وہ ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سوشلستان میں یہ ہفتہ بھی تشدد اور تعزیتوں اور دکھ کے اظہار میں گزرا۔ مگر میڈیا کی نظر میں کچھ واقعات حسبِ معمول زیادہ اہمیت کے حامل رہے اور کچھ کم۔ ان واقعات میں شام میں دل دہلا دینے والے بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہلاکتیں تھیں۔ مگر سوشلستان کے باسیوں کی سوئی اپنی خبر پر اٹکی رہی۔

عمران خان کی ’ہاں، ہاں، ہاں، ہاں‘

عمران خان کو طالبان کی مذمت کرنے تک لانے کا سلسلہ جاری ہے جس میں کامیابی کا سہرہ الجزیرہ کے میزبان مہدی حسن کے سر ہے۔ انھوں نے عمران خان سے سیدھا سوال پوچھا کہ ’کیا آپ طالبان کو ایک دہشت گرد گروہ سمجھتے ہیں؟‘ اس پر عمران خان نے جواب دیا ’یس، یس، یس، یس وہ ہیں۔‘

عمران خان نے اسی پروگرام میں مہدی حسن کے سوال کا جواب دیا کہ ’میری رائے میں، میری پارٹی اور میرا ایمان ہے کہ تمام انسانوں کے پاس حقوق ہیں اور انہیں ریاست کی جانب سے،قانون کی جانب سے تحفظ دیا جانا چاہیے۔‘

کیا آپ احمدیوں کو بھی مساوی حقوق دیں گے؟

عمران خان نے جواب دیا ’تمام انسانوں کے مساوی حقوق ہیں۔ ہر ایک جو پاکستانی ہے اس کے مساویانہ حقوق ہیں۔ آئین کو اسے تحفظ دینا چاہیے۔ وہ برابر کا شہری ہے۔‘

میری خبر میڈیا کو نظر کیوں نہیں آتی؟

سوشل میڈیا صفحات پر کمنٹس اور میسجز کو گذشتہ کئی سالوں سے پڑھنے کا حاصل یہ ہے کہ اگر آپ کشمیر پر بات کریں تو بلوچستان کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے کہیں گے ’پنجابی لابی‘ کے زیرِاثر آگئے ہیں۔ جس کے بعد لوگ بلوچستان اور کشمیر کی خبروں یا غزہ اور شام کی خبروں یا پھر پیرس اور کابل کے حملوں پر شائع ہونے والی خبروں کا تقابل کرنے کی کوششیں کریں گے۔

اگر اس صورتحال کو الٹ کر لیں اور ایسے دِنوں کی بات کریں جب میڈیا مثال کے طور پر لاپتہ افراد پر کوریج کر رہا ہو تو میڈیا پر ’غداری اور بلوچستان کے زبردستی سے بنائے گئے مسئلے پر خوامخوا کوریج‘ کرنے کا الزام لگ جاتا ہے۔

اگر ایسے دنوں کا تصور کریں کہ جب کشمیر اور بلوچستان دونوں پر بات ہو رہی ہو تو ایسے میسج ملیں گے ’آپ کو بلوچستان میں ہی ساری خرابیاں نظر آتی ہیں کیا روہنگیا مسلمان نظر نہیں آتے؟‘

الغرض آپ کو کوئی بھی مسئلہ نظر آئے آپ خالی جگہ پُر کر کے میسیج بھجوا سکتے ہیں۔ فلاں مسئلہ ’آپ اچھال رہے ہیں‘ کیا آپ کو فلاں مسئلہ نظر نہیں آتا؟

ستم یہ ہے کہ ایسے میسج کرنے والے وٹس ایپ یا کسی ایسے ہی گروپ سے کیے گئے میسیج کو کاپی پیسٹ کر رہے ہوتے ہیں مگر گوگل کا استعمال نہیں کرتے جس پر سرچ کرنے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔

مگر ایسا کون کرے؟

کسے فالو کریں؟

گذشتہ شب ایک پاکستانی ذوالفقار علی کی پھانسی آخری لمحات میں رکی جس کے لیے پاکستانی تنظیم جسٹس پروجیکٹ پاکستان نے مہم چلائی اور رائے عامہ تک اس مسئلے کو پہنچانے کی کوشش کی۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان اس سے قبل بھی کئی دوسرے کیسوں میں لوگوں کی جان بچانے کی کوششوں میں پیش پیش رہا ہے۔

اس ہفتے کی تصویر

اس ہفتے کی تصاویر میں بہت سی تصاویر شامل کی جا سکتی ہیں مگر کابل کے اس قبرستان کی یہ تصویر کی کہانی لکھنے کو ایک الگ کالم چاہیے ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

تصویر کے کاپی رائٹ twitter

اسی بارے میں