سوات: تحصیل مٹہ کے 20 گاؤں سکولوں کے بغیر

سوات کی تحصیل مٹہ کے رہائشی اور پشاور میں ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ تحصیل کے کم از کم 20 گاؤں ایسے ہیں جہاں ایک بھی سرکاری پرائمری سکول نہیں ہے۔

پشاور میں کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم ’ان سرچ آف جسٹس‘ کی سربراہ سلمیٰ ملک کا کہنا ہے کہ مٹہ سمیت خیبرپختونخوا کے دور افتادہ علاقوں میں اکثر ایسے گاؤں ہیں جہاں کوئی سکول ہے ہی نہیں۔

تحصیل مٹہ کے مکینوں کے بقول سوات میں طالبانائزیشن کے دوران انھی دیہاتوں کے اکثر نوجوان ’دس دس ہزار ماہانہ تنخواہوں پر شدت پسندوں کے ساتھ کام کیا کرتے تھے‘۔

اہل علاقہ کے مطابق یونین کونسل پیرکلی میں جورا، سنیل خان، گل ڈیری، تفرون، املوک چینہ، جنجر، بیلہ، نوری، اشربنڑ، سپگئی، ٹیٹہ، سیرائی، نیلوای، جبو، بدرگہ، تنگئی، سربت، چوگہ، تنگ ٹول، کوزہ کلاگئی اور برہ کلاگئی دیہاتوں کے لگ بھگ آٹھ ہزار بچوں کے لیے کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔

سوات کی تنظیم ’پیس فرا نیو جنریشن‘ کے سربراہ نیلم چٹان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب سوات میں طالبانائزیشن عروج پر تھی تو ان مسلح گروہوں کے ساتھ مقامی ان پڑھ نوجوان دس ہزار ماہانہ تنخواہ پر کام کیا کرتے تھے۔

Image caption سوات کے تحصیل مٹہ کے کم از کم 20 گاوں ایسے ہیں جہاں ایک بھی سرکاری پرائمری سکول نہیں

نیلم کے مطابق اگر ان دیہات میں ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے کام نہیں کیا گیا تو مستقبل قریب میں پھر ان پڑھ نوجوان شدت پسندی کی جانب مائل ہوسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ تعلیم ان کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔

اس علاقے سے منتخب صوبائی اسمبلی کے رکن محب اللہ سے جب ان گاؤں میں سکول نہ ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو پہلے تو وہ اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے تھ۔ تاہم بعد میں انھوں نے کہا کہ جورا نامی گاؤں کو سکول دینے کی کوشش کی لیکن وہاں کے مقامیوں نے اُنھیں جگہ نہیں دی۔

واضح رہے کہ مٹہ ضلع سوات کی ایک تحصیل ہے اور ضلع سوات ہی سے امن کی نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا بھی تعلق ہے۔

اسی بارے میں