’قندیل سے بالمشافہ صرف ایک ملاقات ہوئی‘

پاکستان کی مقتول اداکارہ، ماڈل اور سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفیاں بنانے والے مفتی عبدالقوی نے پولیس تفتیش کے لیے اپنا تحریری جواب تیار کرلیا ہے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر نے بتایا کہ مفتی عبدالقوی نے قندیل بلوچ کے قتل میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مقتولہ سے ان کی بالمشافہ صرف ایک ملاقات ہوئی۔

پاکستان کے شہر ملتان کی پولیس نے قندیل بلوچ کے قتل کی تفتیش کے لیے مفتی عبدالقوی کو جمعرات کے روز طلب کیا تھا لیکن انھوں نے ملتان میں عدم موجودگی پر سی پی او اظہر اکرام سے معذرت کرلی تھی۔

انھوں نے یہ بھی واضح کردیا تھا کہ وہ تفتیش میں تعاون ضرور کریں گے لیکن تھانے پیش نہیں ہوں گے۔ جمعہ کے روز انھیں پولیس کی جانب سے ایک سوالنامہ موصول ہوا ہے جس میں ان سے 6 سوال پوچھے گئے۔

  1. خاندان کا پس منظر، تعلیم اور کن سرکاری عہدوں پر کام کیا؟
  2. تصنیف و تالیفات، و دینی خدمات کیا ہیں اور اب تک کتنے ملکوں سفر کیا ہے؟؟
  3. الیکٹرانک میڈیا پروگرامز کی تفصیل، جن میں شرکت کی ہے ان کا اجمالی خاکہ؟
  4. قندیل بلوچ سے ملاقات اور ورثا سے کتنا رابطے میں رہے ہیں؟
  5. پاکستان و دنیا بھر سے کن لوگوں سے رابطے ہیں اور وہاں سے حوصلہ افزائی کیسی ہے؟
  6. شاہ صدر دین کا سادات خاندان ، شاگرد اور مریدین بارے بھی پوچھا گیا ہے؟

اپنے تحریری بیان میں مفتی عبدالقوی نے حلف نامہ لگایا ہے اور خاندانی پس منظر اور تعلیم کے بارے میں بتایا ہے۔

قندیل بلوچ سے ملاقات اور ورثا سے کتنا رابطے میں رہنے کے سوال کے جواب میں مفتی عبدالقوی نے واضح کیا کہ ’قندیل بلوچ سے ان کی پہلی ملاقات نیوز ون ٹی وی چینل کے پروگرام ’عجیب سا‘ میں ہوئی جو دو قسطوں میں نشر کیا گیا۔

تاہم ان سے پہلی و آخری بالمشافہ ملاقات 13 رمضان کو کراچی میں ہوئی۔ جس کے لیے رابطہ قندیل بلوچ نے خود کیا اور وہ خود ہوٹل آئیں اور لابی کی بجائے کمرے میں ملنے کا کہا جہاں پہلے سے ہی پانچ افراد موجود تھے۔‘

مفتی عبدالقوی کے مطابق سیلفیوں کے بعد انھیں پوری دنیا، دبئی اور پاکستان سے سینکڑوں ٹیلی فون کالیں آئیں اور مسلسل چار پانچ روز تک لوگوں نے محبت کا اظہار کیا اور تسلیاں دیں۔

مفتی قوی نے لکھا ہے کہ سیلفی والے واقعے کے بعد قندیل بلوچ نے ان کو پانچ پیغامات بھیجے جن کا ریکارڈ انھوں نے تحریری بیان کے ساتھ پیش کیا ہے۔

انھوں نے لکھا ہے کہ سیلفیوں والے واقعے کے بعد وہ اور قندیل بلوچ کئی ٹی وی شوز میں شریک گفتگو ہوئے لیکن ایک سٹوڈیو میں اکٹھے نہیں ہوئے۔

مفتی عبدالقوی کے مطابق قندیل بلوچ کے قتل کے بعد ان کے خاندان کے کسی فرد نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔

اسی بارے میں