پشاور میں فائرنگ، انٹیلیجنس بیورو کا انسپکٹر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے فائرنگ کر کے انٹیلیجنس بیورو کے ایک انسپکٹر کو قتل کر دیا ہے جبکہ مردان سے بھی ایسے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق انسپکٹر کی ہلاکت کا واقعہ پیر کی صبح پشاور کے علاقے پیر دست بدست میں یکہ توت پولیس تھانے کی حدود میں پیش آیا۔

یکہ توت پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار گلفام نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹیلیجنس بیورو کے انسپکٹر عثمان گل صبح دفتر جا رہے تھے کہ دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر اندھادھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ حملہ آوار جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے کے بعد پولیس اور حساس اداروں نے جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے اور کچھ مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔

پشاور اور اطراف کے اضلاع میں گذشتہ دو سالوں میں خفیہ اداروں کے کئی اہلکاروں کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق 15 کے قریب اہلکار مارے جاچکے ہیں۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں دو افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

مردان پولیس کے سب انسپکٹر سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لاشیں پیر کی صبح مردان کے علاقے رنگ روڈ سے ملیں۔

انھوں نے کہا کہ لاشوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں رات کے وقت ہی سڑک کے کنارے چھوڑا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق دونوں لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے جس میں ایک کا تعلق نوشہرہ اور دوسرے کا صوابی کے اضلاع سے بتایا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان میں سے ایک شخص چند ماہ پہلے صوابی کے ایک مدرسے سے لاپتہ ہوگئے تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کا تعلق کسی تنظیم سے تھا یا نہیں۔

خیال رہے کہ چند ماہ پہلے بھی مردان سے چار افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کے بارے میں خیال تھا کہ وہ تمام شدت پسند تھے اور جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے پہلے بھی شدت پسندوں کی لاشیں ملتی رہی ہیں تاہم کچھ عرصہ سے ان واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں