’با اختیار، غیرجانبدار اور جوابدہ پولیس‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہر سال دو مرتبہ ضلعی اسمبلی میں پولیس کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش جائےگی

پاکستان کی صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے پولیس فورس کو با اختیار، غیر جانب دار اور عوام کے سامنے جواب دہ بنانے کے لیے ایک عرصے سے التوا کا شکار پولیس آرڈیننس 2016 کا نفاذ کردیا گیا ہے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے منگل کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری لانے کےلیے یہ قانون نافذ کیا گیا ہے۔

* خیبر پختونخوا میں پولیس انفارمیشن نیٹ ورک کا آغاز

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے آنے والے اجلاس سے اس آرڈننسں کی منظوری کے بعد اسے باقاعدہ قانون کی شکل دے دی جائےگی۔

انھوں نے کہا کہ ’اس آرڈننس کے تحت پولیس کو عوام کے سامنے جواب دے بنایا گیا ہے جبکہ پہلے اس طرح نہیں تھا اور اس کے علاوہ پولیس میں تمام تقرریاں اور تبادلے بھی اب پولیس سربراہ کا اختیار ہوگا جس سے اس محکمے میں سیاسی اثر و رسوخ بھی مکمل طورپر ختم ہوجائے گا۔‘

وزیراعلی نے کہا کہ پہلی مرتبہ اس آرڈننس کے تحت ضلعی، ریجنل اور صوبائی سیفٹی کمیشن بنائے گئے ہیں جس کے تحت پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی انکوائری کی جاسکی گی اور ان کی زیادتیوں کا نوٹس بھی لیا جاسکے گا۔ اس کمیشن کے ممبران میں حکومت اور حزب مخالف کے ممبران کے علاوہ بلدیاتی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہر تھانے میں تفتیش کے باقاعدہ ڈسک بنائے گئے ہیں اور اس کےلیے باقاعدہ تربیت یافتہ سٹاف مقرر کیا گیا ہے

اس کے علاوہ ضلعی پولیس کے سربراہ ضلعی حکومتوں کو جواب دے ہوں گے اور ہر سال دو مرتبہ ضلعی اسمبلی میں پولیس کی کارکردگی رپورٹ بھی پیش جائےگی اور اس طرح اس پر اسمبلی میں بحث بھی کی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے صوبے میں تفتیش کا کوئی ادارہ نہیں تھا لیکن اب ہر تھانے میں تفتیش کے باقاعدہ ڈسک بنائے گئے ہیں اور اس کےلیے باقاعدہ تربیت یافتہ سٹاف مقرر کیا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق صوبہ بھر میں پندرہ سے بیس پولیس سٹیشنز کو ماڈل تھانوں میں تبدیل کیا گیا ہے اور اس طرح صوبے کے دیگر تمام تھانے بھی ماڈل تھانوں میں رفتہ رفتہ تبدیل کردیے جائیں گے اور اس کےلیے صوبائی بجٹ میں فنڈز رکھے گئے ہیں۔

اس موقعے پر خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ ناصر خان درانی بھی موجود تھے۔ انھوں نے پولیس آرڈننس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ قانون پولیس میں ایک بڑی تبدیلی کاآغاز ہے جس میں پولیس کے پاس اختیارات بھی ہے اور ساتھ ساتھ ان کی کی احتساب کا عمل بھی شامل کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سیاسی حکومتوں کےلیے یہ انتہائی مشکل فیصلہ ہوتا ہے کہ جہاں ملک کا سارا سیاسی نظام تھانہ کچہری کے گرد گھومتا ہو وہاں حکومت اپنے تمام اختیارات پولیس کے حوالے کرکے ان کو آزاد اور بااختیار بنادے اور اپنے پاس کچھ نہ رکھیں۔‘

اسی بارے میں