صوابی میں جھڑپ، پولیس اہلکار سمیت دو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور شدت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شدت پسند ہلاک ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کی صبح ضلع بونیر کے ساتھ واقع صوابی کے سرحدی علاقے اوتلہ میں پیش آیا۔

٭پشاور میں خفیہ ادارے کا انسپکٹر ہلاک

٭ پختونخوا کے حالات بہتر، 10 ہزار اہلکار فارغ کرنے کا فیصلہ

اوتلہ پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار عمر زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اہلکار معمول کا سرچ آپریشن کر رہے تھے کہ اس دوران پہاڑی علاقے سے مسلح شدت پسندوں نے ان پر فائرنگ کی جس سے ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔

ان کے مطابق پولیس کی طرف سے بھی جوابی کارروائی کی گئی جس میں ایک شدت پسند مارا گیا۔

پولیس اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مرنے والے شدت پسند کے دو بھائیوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ صوابی میں اس سے پہلے بھی پولیس اہلکاروں اور پولیو کارکنوں پر شدت پسندوں کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں جس میں کئی ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

صوابی کی سرحد ضلع بونیر سے ملتی ہے اور چند سال پہلے تک ان دونوں اضلاع میں پولیس اہلکار شدت پسندوں کے حملوں کی زد پر تھے۔

پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شدت پسند اکثر اوقات بونیر کے پہاڑی علاقوں سے صوابی کی طرف آتے ہیں اور ان سرحدی مقامات میں کئی مرتبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں