گولن کے ادارے دنیا بھر کے لیے خطرہ ہیں: مولود اوغلو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترک اور پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ وہ مشکل حالات میں ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکتے ہیں

ترک وزیرِ خارجہ مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ وہ جلاوطن ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی تنظیم کی پاکستان میں سرگرمیوں سے متعلق ترک حکومت کے خدشات پر پاکستانی ردعمل سے مطمئن ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فتح اللہ گولن کی تنظیم ہر اس ملک کے لیے خطرہ ہے جہاں اس کی موجودگی ہے۔

٭ پاکستان گولن کے تحت چلنے والے ادارے بند کرے

مولود اوغلو نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان گولن کی تنظیم کے تحت چلنے والے تعلیمی و ثقافتی اداروں کو بند کر دے گا کیونکہ وہ پاکستان اور دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

ترک حکومت کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے پیچھے امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے تاہم وہ اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی میں گذشتہ ماہ صدر رجب طیب اردوغان کی حکومت کے خلاف ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد ہزاروں فوجیوں سمیت میڈیااور شعبہ تعلیمسے منسلک افراد کو نوکریوں سے برطرف یا معطل کر دیا گیا ہے۔

ترک حکومت نے مقامی میڈیا کے ایسے 140 سے زیادہ ایسے ادارے بھی بند کر دیے ہیں جن پر امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کے حامی ہونے کا شبہ تھا۔

ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ کوئی راز نہیں کہ فتح اللہ گولن کی تنظیم ’ہزمت‘ کے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں تعلیمی و ثقافتی ادارے ہیں۔

اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے مولود اوغلو نے کہا وہ اس سلسلے میں ترک خدشات پر پاکستان کے ردعمل سے مطمئن ہیں اور پرامید ہیں کہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

’مجھے یقین ہے کہ ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے، ہمیں ایسی تنظیمیوں کے حوالے سے بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے جو ہر ملک کی سکیورٹی اور استحکام کے لیے جہاں یہ موجود ہیں ایک خطرہ ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی کی موجودہ حکومت ماضی میں فتح اللہ گولن کی تنظیم کے تحت پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں چلنے والے تعلیمی و ثقافتی اداروں کی حمایت کرتی رہی ہے تاہم وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا خفیہ ایجنڈا بھی ہے۔

’ماضی میں ہم نے ان کی حمایت کی لیکن ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کا خفیہ ایجنڈا تھا اور ہم نہیں جانتے تھے کہ وہ ترکی میں اس قسم کی کوششوں سے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

مولود اوغلو نے کہا کہ ’اس دہشت گرد گروپ کے خلاف پوری دنیا میں کوشش ہونی چاہیے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل ترکی کی جانب سے فتح اللہ گولن کی تنظیم سے متعلقہ اداروں کی بندش کے مطالبے پر پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا تھا کہ ’ہم ان سکولوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے ترک حکام سے رابطے میں ہیں تاہم جس بات پر زیادہ غور ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ترکی ایسی کوئی تنظیم یا ادارہ تجویز کرے جو ان سکولوں اور کالجوں کا انتظام سنبھال لے۔‘

ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ترک اور پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ وہ مشکل حالات میں ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر سرتاج عزیز نے کہا کہ ترک عوام نے جمہوریت کے خلاف بغاوت کو ناکام بنایا اور پاکستان اور ترکی مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔

اسی بارے میں