چترال میں سرحد پار سے آنے والے پانچ شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دور افتتادہ ضلع چترال میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے داخل ہونے والے پانچ مبینہ شدت پسند سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب چترال میں پاک افغان سرحدی علاقے اوستوئی میں تھانہ بمبورت کی حدود میں پیش آیا۔

* چترال: افغانستان سے آئے مسلح افراد نے دو چرواہے ہلاک کر دیے

٭ چترال اور دیر میں فوج کی تعیناتی

تھانہ بمبورت کے اہلکار ہاشم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ شدت پسند واردات کی نیت سے رات کی تاریکی میں افغان علاقے سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے تاہم اس دوران سکیورٹی فورسز کی ان پر فائرنگ میں پانچ شدت پسند مارے گئے۔

انھوں نے کہا کہ لاشوں کو قبضے میں لے کر انھیں ضلعی ہسپتال چترال پہنچایا جا رہا ہے۔

اہلکار ہاشم خان کے مطابق گذشتہ کچھ دنوں سے سرحدی مقامات پر افغان علاقے سے حملوں میں تیزی آ رہی ہے جس سے مقامی افراد خوف کا شکار ہوگئے ہیں۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مرنے والے افراد کا تعلق آیا کسی شدت پسند تنظیم سے ہے۔

خیال رہے کہ چترال کے پاک افغان سرحدی علاقوں میں گذشتہ چند دنوں کے دوران یہ تیسرا حملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس کے مطابق گذشتہ کچھ دنوں سے سرحدی مقامات پر افغان علاقے سے حملوں میں تیزی آ رہی ہے

اس سے پہلے بھی سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں نے وادی کیلاش سے تعلق رکھنے والے دو چرواہوں کو تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا تھا جبکہ ان کے تین سو کے قریب مال مویشوں کو بھی لوٹ کر لے گئے تھے۔

اس واقعے کے ایک روز بعد چند مسلح افراد نے سرحد پار سے دوبارہ پاکستان کے علاقے میں داخل ہوئے اور وادی کیلاش کے مال مویشی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے تاہم اس واقعے میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ چند سال پہلے چترال اور دیر کے اضلاع میں سرحد پار سے پاکستانی سکیورٹی چیک پوسٹوں اور شہریوں کو شدت پسند حملوں میں نشانہ بنانے کے واقعات بڑھ گئے تھے جس میں تقریباً سو سے زائد افراد اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

تاہم ان واقعات میں اضافے کے بعد پاکستان نے اس سرحدی پٹی پر چترال سکواؤٹس اور فوج کے ریگولر دستوں کو تعینات کردیا تھا جس کے بعد ان حملوں میں کمی کافی حد تک واقع ہوئی تھی۔ سکیورٹی فورسز کے دستے بدستور ان علاقوں میں تعینات ہیں۔

اسی بارے میں