کوئٹہ دھماکہ: سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHAMMAD
Image caption دھماکے میں زائرین کی گاڑیاں محفوظ رہیں تاہم ان کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کی گاڑی اس کی زد میں آگئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بم کے ایک دھماکے میں تین سیکورٹی اہلکار سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکہ بدھ کی شب شہر کے اسپنی روڈ پر اس وقت ہوا جب اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے زائرین کا ایک قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ چوہدری منظور سرور نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے اسپنی روڈ پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد کو اس وقت اڑایا گیا جب تین بسوں پر مشتمل اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے زائرین کا ایک قافلہ وہاں سے گزرہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں زائرین کی گاڑیاں محفوظ رہیں تاہم ان کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کی گاڑی اس کی زد میں آگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHAMMAD
Image caption دھماکے کے باعث تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں فرنٹیئر کور کے دو اور پولیس کا ایک اہلکار شامل ہے۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ زائرین کا تعلق سکھر سے تھا جن میں سے صرف ایک خاتون صدمے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا جس کے لیے ڈھائی سے تین کلو مواد استعمال کیا گیا تھا۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے کوئٹہ شہر میں بم دھماکوں اور بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں حالات میں بہتری آئی ہے۔

گذشتہ روز امن و امان سے متعلق بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ایک بحث سمیٹتے ہوئے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے کہا تھا کہ کوئٹہ میں پہلے کے مقابلے میں امن و امان کی صورتحال میں 95 فیصد بہتری آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ KHAIR MUHAMMAD
Image caption دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا جس کے لیے ڈھائی سے تین کلو مواد استعمال کیا گیا تھا

اسی بارے میں