’سامعہ شاہد کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ family photo
Image caption سامعہ شاہد کی ابتدائی پوسٹمارٹم کی رپورٹ میں بھی ڈاکٹر نے مقتولہ کی گردن پر زخم کے ایک نشان کا ذکر کیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع جہلم کی پولیس نے پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کی موت کو قتل کی واردات قرار دے دیا ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تفصیلی فارینزک رپورٹ کے مطابق سامعہ کی موت سانس روکے جانے یا گلا دبانے سے ہوئی ہے۔

٭سامعہ کے ’سابق‘ شوہر کی ضمانت قبل از گرفتاری

٭ برطانوی خاتون کی ہلاکت، والد اور رشتہ دار زیرِ حراست

28 سالہ سامعہ شاہد کی موت 20 جولائی کو ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں واقع ہوئی تھی اور ان کے پوسٹ مارٹم کی تفصیلی فارینزک رپورٹ بدھ کو جہلم پولیس کو موصول ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم سے جاری ہونے والی سامعہ شاہد کی ابتدائی پوسٹمارٹم کی رپورٹ میں ڈاکٹر نے مقتولہ کی گردن پر زخم کے ایک نشان کا ذکر کیا تھا لیکن اسے موت کی وجہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔

پولیس نے سامعہ کے قتل کا مقدمہ ان کے دوسرے شوہر مختار کاظم کی مدعیت میں درج کیا تھا جس میں سامعہ کے والدین، بہن، کزن اور پہلے شوہر کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس نے اس مقدمے میں تین نامزد ملزمان والد شاہد، کزن مبین اور پہلے شوہر شکیل کے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں اور سامعہ کے والد اور کزن پولیس کی تحویل میں ہیں۔

مقامی عدالت نے چھ اگست تک شکیل کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی ہوئی ہے اس لیے انھیں گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

پولیس نے ابتدائی تفتیش میں بقیہ دو ملزمان سامعہ کی والدہ امتیاز بی بی اور ان کی بہن مدیحہ شاہد کو بےگناہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دونوں وقوعہ سے پہلے ہی انگلینڈ جا چکی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ kazam
Image caption پولیس نے سامعہ کے قتل کا مقدمہ ان کے دوسرے شوہر مختار کاظم کی مدعیت میں درج کیا تھا

تاہم اب پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران قتل کی سازش میں ان خواتین کا کوئی کردار سامنے آیا تو انھیں انٹرپول کی مدد سے واپس پاکستان لانے کی کوشش کی جائے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق سامعہ کے پہلے شوہر شکیل ہی تاحال مقدمے کے مرکزی ملزم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق فارینزک رپورٹ آنے کے بعد شکیل کے گھر کے باہر سادہ کپڑوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پولیس نے مقدمے کے مدعی اور مقتولہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم کو بھی پولیس کو بغیر اطلاع دیے شہر نہ چھوڑنے کو کہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودہری نثار علی خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو اپنی نگرانی میں معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنے قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں