’مسائل کے حل کے لیے سخت گیر موقف میں لچک ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ’پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہے‘

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سخت گیر موقف میں لچک پیدا کیے بغیر خطے کے مسائل کا حل اور قیام امن کی خواہش کی تکمیل ممکن نہیں۔

جمعرات کو اسلام آباد میں جنوبی ایشیا کی تنظیم سارک کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ’اگر ہم پرانے موقف پر قائم رہیں گے تو پھر شاید مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکیں۔‘

٭ اسلام آباد:سارک ممالک کے سیکریٹری داخلہ کا اجلاس

٭ ’راج ناتھ سارک میں شرکت کریں گے دوطرفہ ملاقات نہیں‘

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسے کے ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے سے تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مل بیٹھ کر تمام مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ شدت پسند عناصر مختلف ممالک کے ریاستی اداروں کے سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ 60 برس سے پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے آ رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ کسی کو بھی پہنچا۔

’چھ دہائیوں سے الزام برائے الزام کی روایت جاری ہے اور اس الزام برائے الزام سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ حل طلب معاملات کا تصفیہ اور تحفظات دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور وقت آ گیا ہے کہ تمام معاملات کو بات چیت سے حل کیا جائے۔

چوہدری نثار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہےاور پرامن اور بامقصد تعلقات کا خواہاں ہے۔ ’پاکستان نے کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے اور نہ ہی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے پیشگی شرائط رکھی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption نواز شریف نے خطے کی ترقی کے لیے باہمی اشتراک پر بھی زور دیا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حالیہ احتجاجی لہر کا حوالہ دیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں اور حریت پسندوں میں فرق ہونا چاہیے۔

’آزادی کی جدوجہد اور دہشت گردی میں واضح فرق ہے اور معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں چند ہفتے قبل شروع ہونے والی احتجاجی لہر میں درجنوں افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

سارک کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی شریک تھے۔

ان کی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آمد پر بعض مذہبی جماعتوں نے احتجاج بھی کیا اور ان کے اس دورۂ پاکستان کی مخالفت صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ انڈیا میں بھی ہوئی ہے۔

پاکستانی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستان نے سخت نقصان برداشت کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح انڈیا، بنگلہ دیش اور افغانستان میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات قابل مذمت ہیں اسی طرح پاکستان میں ہونے والے واقعات بھی انتہائی قابل مذمت ہیں۔

’دہشت گردی کا ہر واقعہ قابلِ مذمت ہے۔ ڈھاکہ، کابل، پٹھان کوٹ جیسے کئی واقعات پاکستان میں بھی ہوئے جن میں معصوم پاکستان شہری مارے گئے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان نے کبھی بھی ’اچھے اور برے طالبان‘ میں فرق نہیں کیا اور ایسے تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جارہی ہے جو ریاست یا عوام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی سرحد پار سے ہو رہی ہے اس کے علاوہ سرحد پار سے ہی پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption راج ناتھ سنگھ کی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آمد پر بعض مذہبی جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے

اُنھوں نے کہا کہ ایسے تمام مسائل کا حل دوطرفہ مذاکرات میں ہی ہیں اور اس حوالے سے سارک اور اس جیسے دیگر فورم کو استعمال کیا جانا چاہیے۔

جمعرات کو اجلاس کی استقبالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے بھی کہا تھا کہ خطے کی ترقی کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیائی خطے سے دہشت گردی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے رکن ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سارک پہلے سے زیادہ متحرک اور فعال ہے اور توقع ہے کہ سارک کے فیصلے رکن ممالک کے فیصلے حوصلہ افزا ثابت ہوں گے۔

نواز شریف نے خطے کی ترقی کے لیے باہمی اشتراک پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ چیلنجز کے باوجود سارک نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان علاقائی سکیورٹی کے موضوع پر گفتگو ہونی ہے لیکن تمام نظریں ایک مرتبہ پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کسی دو طرفہ ملاقات کے امکان پر لگی ہیں۔

اسی بارے میں