’شوہر کو جلانے والی‘ خاتون والد سمیت گرفتار

Image caption سہیل کی 15 سال قبل ماریہ سے شادی ہوئی تھی

کراچی میں پولیس نے ایک خاتون کو اپنے شوہر کو پٹرول چھڑک کر جلا کر مار ڈالنے کے الزام میں ان کے والد اور بھائی سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

سہیل نامی شخص کو آگ لگانے کا واقعہ دو روز قبل فیڈرل بی ایریا بلاک 16 میں پیش آیا تھا اور وہ بدھ کی شب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔

مقتول سہیل کی والدہ صفیہ بیگم نے بلال کالونی تھانے میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا ہے کہ ان کا بیٹا اپنے بچوں سے ملنے اور بیوی کو منانے کے لیے سسرال گیا تھا جہاں اس پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔

سہیل کی ہمشیرہ سیما نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی کی 15 سال قبل خاندان میں ہی شادی ہوئی تھی اور چند برس سے ان کی بھابھی ماریہ کا گھر والوں سے اختلاف تھا اور وہ اپنے شوہر سے مطالبہ کر رہی تھیں کہ انھیں الگ گھر لے کر دیں لیکن وہ اس کے لیے راضی نہیں تھا۔

سہیل کے دو بھائی کینیڈا میں جب کہ ان کی بوڑھی ماں ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔

سیما کے مطابق سہیل نے بیوی کو کہا کہ وہ اپنی ماں کو نہیں چھوڑ سکتا کچھ عرصہ قبل اسی پر دوبارہ تنازع ہوا اور ان کی بھابی ماریہ روٹھ کے میکے چلی گئی۔

سہیل کے دوست علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سہیل ایک نجی ہسپتال میں لیبارٹری ٹیکنیشن تھے، ان کی چار بیٹیاں ہیں جن میں بڑی کی عمر 14 سال کے قریب ہے۔

علی نے بتایا کہ دو روز قبل سہیل کو بیوی کا ٹیلیفون آیا تھا کہ آ کر بچوں سے مل جاؤ جس پر وہ سسرال چلا گیا اور وہاں معلوم نہیں کہ کیا ہوا۔

علی کے مطابق ’رات نو بجے ماریہ کا سہیل کی والدہ کو ٹیلیفون آیا کہ تمہارا بیٹا مرگیا ہے آ کر لے جاؤ، والدہ نے سمجھا کہ جھگڑے کی وجہ سے وہ ایسا کہہ رہی ہے لیکن ایک گھنٹے کے بعد آغا خان ہپستال سے ٹیلیفون آیا کہ سہیل کی طبیعت انتہائی نازک ہے فوری آ جائیں۔‘

علی نے بتایا کہ سہیل کا جسم 95 فیصد جھلس گیا تھا۔

دوسری جانب مقتول سہیل کی بیوی ماریہ کا کہنا ہے کہ سہیل اس کو مارتا پیٹتا اور دھمکاتا تھا، جس سے تنگ آ کر وہ میکے آگئی تھی۔

ماریہ کا دعویٰ ہے کہ سہیل کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور اس نے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی۔

بلاول کالونی پولیس نے سہیل کی بیوی ماریہ ان کے بھائی اور والد رحمت علی کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسی بارے میں