پاکستان میں دوبارہ داخل ہونے پر امریکی شہری گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ FIA
Image caption میتھیو بیرٹ کو سنہ 2011 میں اس وقت بلیک لسٹ قرار دیا گیا

پاکستان کے خفیہ ادروں نے بلیک لسٹ کیے جانے والے امریکی شہری کو ملک میں دوبارہ داخل ہونے پر گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم میتھیو بیرٹ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ ان کی ملک میں دوبارہ آمد کے واقعے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایس ایس ایس انویسٹی گیشن کیپٹن ریٹائڑڈ محمد الیاس کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ملزم کو بےنظیر بھٹو ایئرپورٹ پر کلیئرنس دینے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے اُن میں سے ایک اہلکار کو گرفتار کر لیا ہے۔

ملزم کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ میں واقع ایک گیسٹ ہاوس سے گرفتار کیا گیا جہاں پر اس نے عارضی رہائش رکھی ہوئی تھی۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق امریکی شہری میتھیو بیرٹ کو سنہ 2011 میں اس وقت بلیک لسٹ قرار دیکر ملک بدر کیا گیا تھا جب وہ پنجاب کے علاقے فتح جنگ میں کالا چٹا پہاڑ کے قریب واقع حساس عمارتوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزم میتھیو نے لینڈنگ کارڈ پر غلط کوائف لکھ کر اسلام آباد ایئرپورٹ پر واقع ایف آئی اے کے کاؤنٹر سے اپنے آپ کو کلیئر کروایا تاہم حساس اداروں کے اہلکاروں کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اُنھوں نے سراغ لگا کر امریکی شہری کو گرفتار کرلیا۔

ایف آیی اے کے حکام نے امریکی شہری کی کلیئرنس کرنے والے اہلکار احتشام الحق کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اُن کے والد اور شفٹ انچارج انسپکٹر راجہ آصف محمود کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

Image caption ملزم میتھیو نے لینڈنگ کارڈ پر غلط کوائف لکھ کر ایف آئی اے کے کاؤنٹر سے اپنے آپ کو کلیئر کروایا

وزیر داخلہ نے امریکہ شہر ہیوسٹن میں پاکستانی قونصل خانے میں تعینات اُن افراد کے خلاف بھی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے جنھوں نے میتھیو بیرٹ کو پاکستانی ویزا فراہم کیا ہے۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ امریکی کو جو پاکستانی ویزا جاری کیا گیا ہے اس پر قونصل خانے میں تعینات خاتون افسر کے دستخط ہیں اور اُن کے خلاف بھی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم میتھیو کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اُنھیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں