جولاہا کہاں گیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SAANDILYA

پنجاب کی معاشی اور سماجی زندگی کا ایک اہم کردار جولاہا تھا۔ ہر دیہات میں جہاں، نائی، تیلی، موچی اور کمھار ہوتے تھے وہیں ایک ایسا گھر ضرور ہوتا تھا جس کے ایک کمرے میں گڑھا کر کے کھڈی لگائی جاتی تھی جس پر کھیس، دریاں اور کھدر بنا جاتا تھا۔

گاؤں والے جس کھدر کے تہ بند اور کرتے پہنا کرتے تھے وہ ان کے اپنے ہی کھیتوں کی کپاس سے بنا جاتا تھا۔ ان جولاہوں کے گھروں سے کھڈی کی کھٹ کھٹ کے ساتھ ساتھ، قرآن کی تلاوت، منظوم قصوں اور کبھی کبھار گیتوں کی آواز بھی آتی تھی۔

یوں تو جولاہے پورے برِصغیر میں مختلف ناموں اور قبیلوں سے منسوب ہیں، لیکن جنوبی پنجاب میں ان کو پاؤلی کہا جاتا ہے۔

پاؤلیوں کے پورے گاؤں بھی علیحدہ آباد ہوتے تھے، جہاں یہ دریاں، کھیس اور کھدر بنتے، یوسف زلیخا کے قصے بیان کیا کرتے، بنا ہوا کپڑا لے کر گاؤں گاؤں، قریہ قریہ گھومتے تھے۔

فصل کے بعد جب گھروں میں دانے بھی ہوتے تھے اور پیسے بھی، تب سلیقہ مند بیبیاں دروازوں کی آڑ میں رنگلی پیڑھیوں پہ بیٹھ کے لونگ اور کوڑیاں ٹنکے دستی پنکھے جھلتے ہوئے ان دریوں اور کھیسوں کی خریداری کرتی تھیں۔

کوکوں والے دروازوں کی آڑ سے سرسوں کی ناڑ جیسی حنا بستہ انگلیاں ان دریوں پہ بنے چاند ستاروں سے مس ہو تی تھیں، تو وہ بازنطینی روحیں، جن سے صدیوں پہلے ترکوں نے یہ نشان چھینا تھا بےچین ہو اٹھتی تھیں۔

دنداسہ رنگے ہونٹوں کے عقب سے دانتوں کی سفیدی چمکتی تھی اور جولاہے اپنے گیتوں کے تار سے بنے کھیس اور دریاں، لاچے اور چنیاں کسی خال کے بدلے اور کہیں گندم اور جو کے بدلے دے کر اپنی بستیوں کو لوٹ آتے تھے، جہاں یہ پھر سوت کے تاروں میں خونِ جگر پرو کے نئے کھیس بنتے تھے، نئی دریوں کے تانے بانے اٹھاتے تھے، نئے لاچوں کی تاریں بٹھاتے تھے اور نئی چنیوں کے نمونے سوچتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دیسی روئی کے ہاتھ کی کھڈی پر بنے کھیس جس کسی نے اوڑھے، وہی اس آسودگی کو جانتا ہے۔ یوں لگتا ہے ماں کی نرم آغوش میں گڑ مڑی مارے پڑے ہیں، بستہ کھونٹی پہ ٹنگا ہے اور چھٹیوں کا پہلا دن ہے۔ ان جولاہوں کے ہاتھوں کی بنی دریاں جب بان کے کسے کسائے کورے پلنگوں پہ بچھتی تھیں تو کچے آنگن سج جاتے تھے۔ مٹکوں میں بھرے پانی میں بھی کیکر کی پرانی شراب کی تا ثیر آ جاتی تھی۔

پھر یہ جولاہا غائب ہو گیا، ملوں نے سر اٹھائے، کھیتوں سے دیسن غائب ہوئی، امریکن کپاس نے پیر جمائے، محکمہ زراعت نے دیسن کو پر دیسن کر دیا۔ حکم آیا کہ خبردار کسی نے دیسی روئی کاشت کی۔

جولاہے اپنے چاروں طرف بدلتی دنیا سے بےخبر تو نہ تھے لیکن، کیا کر سکتے تھے؟ آڑھتوں پر آنے والی روئی کی گانٹھیں غائب ہوئیں، مل مالکان نے نرمے کے خریداری کے لیے کاشت کاروں سے رابطے کیے۔ جولاہوں کے بنے کھدر کی جگہ ملوں کی بنی وائل اور واش اینڈ وئیر کے تھان دکانوں میں سج گئے۔

آگے بڑھنے والوں نے پرنٹڈ جوڑے خریدے اور سنہری تاروں والی چنیاں اور لاچے قصۂ پارینہ ہوئے۔ جولاہوں کا کام سرد پڑا، کھیس اور دریاں کون اور کتنی خریدتا؟ کبھی جہیزوں کے لیے یا کسی کی ساس کے مرنے پہ بھیجے جانے والے سامان کے لیے خریدی جانے والی دریاں اور کھیس گھر کا چولھا نہیں جلا سکتے۔

آہستہ آہستہ جولاہے کاٹن ملوں میں ملازم ہونے لگے۔ لیکن ان سرد دھاتی مشینوں کے بےہنگم شور میں لکڑی کی نازک کھڈیوں کی کھٹ کھٹ نہ تھی جس کو سن کر دل خود بخود سکون اور اطمینان سے بھر جاتا تھا، نہ ہی ان پہ پونے گز کا پارچہ بنا جاتا تھا۔ یہاں تو جناتی مشینوں پر بےغل و غش کپڑا بن اور بک رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANISH SAANDILYA

جولاہوں کا کام نزاکت اور نفاست کا متقاضی تھا، نسل در نسل نفیس کام کرنے کے بعد یہ جولاہے کھیت مزدوری کے قابل بھی نہ رہے تھے۔ ان میں اکثریت حا فظِ قرآن تھی اس لیے روزی روٹی چلتی رہی۔ خاندانی کھڈیاں ایندھن کے ٰ ٹالوں پہ بک بکا گئیں۔ جب دیسن ہی نہ رہی تو جولاہا کیا کرتا؟

اب صورتِ حال یہ ہے کہ میں نے کچھ کنال دیسی روئی کاشت کی، ایک دوست کی والدہ نے اپنا چرخہ دیا، کھڈی این سی اے کی ایک سابق طالبہ سے خریدی اور چاہا کہ کھدر بنوائی جائے۔ ایک کمرا بھی تیار کر لیا گیا، کچھ لوگوں نے یہ کھدر خریدنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

میں خوش تھی کہ اب پھر سے سوت کاتا جائے گا، کھڈیاں کھٹکھٹائیں گی اور مجھ سے ماضی پرستوں کو کچھ تو خوشی ملے گی۔ لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ نہ تو کسی کو چرخہ کاتنا آتا ہے اور نہ ہی کھدر بننی۔ ایک صاحب کے سامنے اپنی پریشانی رکھی، وہ ایک ہونق صورت آدمی کو لیے آئے کہ بھئی یہ ہمارے پڑوس کے گاؤں کا جولاہا ہے اور وہ پورا گاؤں ہی جولاہوں کا ہے۔

میں نے اس کو کھڈی اور چرخہ دکھایا تو کافی دیر روشنی میں آجانے والے الو کی طرح آنکھیں پٹپٹاتا رہا، پھر بڑی حیرت سے کھڈی کو ہاتھ لگا کر بولا، ’یہ کیا ہے؟‘

کھڑکی سے آتی عصر کے بعد کی روشنی میں گرد کے ذرے ننھے ننھے سیاروں کی طرح معلق تھے اور میں جولاہے اور کھڈی کے درمیان چھائی اجنبیت کے درمیان سُن کھڑی تھی۔

اسی بارے میں