انڈیا کو پشاور جیل میں اپنے شہری پر حملوں پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سشما سوراج کا کہنا ہے کہ حامد انصاری پر حملے غیر انسانی فعل ہیں

انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں چار برس سے گرفتار انڈین شہری حامد نہال انصاری پر سنٹرل جیل پشاور میں قیدیوں کے مبینہ حملوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سشما سوراج نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ انھیں انڈین شہری حامد نہال انصاری پر جیل کے اندر بار بار ہونے والے حملوں پر انتہائی دکھ پہنچا ہے۔

٭ جاسوسی کے الزام میں بھارتی شہری کو تین سال قید

ان کا کہنا ہے کہ حامد انصاری سنہ 2012 سے پشاور کی سنٹرل جیل میں پابند سلاسل ہیں اور ان پر حملے غیر انسانی فعل ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ فوری طورپر حامد انصاری تک قونصلر کی رسائی حاصل کریں تاکہ ان کے بارے مکمل معلومات مل سکیں۔

خیال رہے کہ حامد نہال انصاری کے وکیل قاضی محمد انور ایڈووکیٹ نے چند دن پہلے پشاور ہائی کورٹ کے ایک بینچ کو بتایا تھا کہ ان کے بھارتی موکل پر تین مرتبہ جیل کے اندر حملہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق حامد نہال انصاری گذشتہ چند ماہ کے دوران تین مرتبہ زخمی ہوئے اور انھیں علاج کی غرض سے ہسپتال بھی لے جایا گیا۔

انھوں نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ ان موکل کو اس جگہ رکھا گیا ہے جہاں سزائے موت پانے والے قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔

ملزم کی والدہ فوزیہ انصاری کی طرف سے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر چند ماہ پہلے وزارتِ دفاع کی طرف سے جواب داخل کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزم کو آرمی ایکٹ کے تحت سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے

اس جواب میں کہا گیا تھا کہ ملزم حامد نہال انصاری کو پاکستانی فوج نے گرفتار کر رکھا ہے اور ان کے خلاف فوجی عدالت میں کارروائی چل رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ حامد نہال انصاری کو چار سال پہلے کوہاٹ سے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس سال فروری کے مہینے میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے انھیں جاسوسی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ملزم حامد نہال انصاری نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر افغانستان سے طورخم کے راستے پاکستان میں داخل ہوئے اور ان کی آمد کا مقصد جاسوسی کرنا تھا جبکہ ملزم کی والدہ فوزیہ انصاری کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کی چند پاکستانی شہریوں سے دوستی تھی جنھوں نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ بغیر ویزے کے افغانستان کے راستے سے پاکستان آ سکتے ہیں۔

ان کی والدہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کی انٹرنیٹ پر ایک پاکستانی خاتون سے بھی دوستی ہوگئی تھی جس سے ملنے کے لیے حامد نہال پاکستان گئے تھے۔

حامد نہال انصاری کی عمر 31 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور وہ سافٹ ویئر انجینیئر ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ ملزم کی والدہ کی طرف سے سپریم کورٹ کی انسانی حقوق کی سیل میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں ان کے بیٹے کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔

اسی بارے میں