ایم کیو ایم کے کارکن کو اپنے ساتھی کے قتل پر سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے نائن زیرو پر فائرنگ کے بعد فرار ہونے پر انھیں شہداد پور سے گرفتار کیا تھا

پاکستان کے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے کارکن سید آصف علی کو اپنی ہی جماعت کے کارکن کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی ہے۔

سید آصف علی پر الزام تھا کہ انھوں نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے وقت فائرنگ کی تھی جس میں ایم کیو ایم کے ہی رکن وقاص شاہ ہلاک ہو گئے تھے۔

٭ ایم کیو ایم کے کارکن کا مبینہ قاتل گرفتار

٭ ’نائن زیرو‘: ایم کیو ایم کا سیاسی قبلہ اور طاقت کا مرکز

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے وقاص شاہ کے قتل کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج پیر کو سنایا گیا۔

فیصلے کے مطابق مجرم آصف شاہ پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

پولیس کا موقف تھا کہ ملزم سید آصف علی نے رینجرز کے چھاپے کے دوران وقاص شاہ پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔

اس واقعے کے بعد ملزم فرار ہوگیا اور رینجرز نے انھیں ضلع سانگھڑ کے شہر شہدادپور سے گرفتار کیا تھا۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ وقاص شاہ کی ہلاکت رینجرز کی فائرنگ میں ہوئی ہے۔

گذشتہ برس جون میں رینجرز نے ملزم سید آصف کی گرفتاری پر ایک بیان جاری کیا تھا جس کے مطابق ’ملزم نے رینجرز کے چھاپے کی فوٹیج مختلف ٹی وی چینلز پر دیکھی اور اپنی بیوی کے ساتھ ایک پستول سے مسلح ہو کر نائن زیرو پہنچ گیا اور رینجرز اہلکاروں کو اشتعال دلانے کے لیے نعرے بازی شروع کر دی۔‘

رینجرز کے مطابق ’اسی دوران ملزم نے موقع دیکھ کر اپنے پیچھے کھڑے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکن وقاص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ایک منصوبے کے تحت اپنے ساتھیوں کے ساتھ میڈیا کو وقاص کی لاش کے قریب بلایا اور واویلا کیا کہ وقاص کو رینجرز نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ملزم نے اس کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لے داڑھی رکھ لی اور اندرون سندھ فرار ہو گیا جہاں سے اسے گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں