’ہر طرف لاشیں تھیں، لوگ سکتے میں تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں نجی وی چینلز کے دو کیمرہ مین بھی شامل ہیں

کوئٹہ کے ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے کے عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے ہر طرف لاشیں تھیں اور ان مناظر کو بیان کرنا مشکل ہے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے کیمرہ مین عبدالوحید نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت کو ایکسرے روم میں لے کر جا رہے تھے اور میڈیا کے نمائندے بھی اس کے پیچھے جا رہے تھے کہ اسی دوران اچانک زور دار دھماکہ ہو گیا تو کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہو گیا۔

* کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، 53 افراد ہلاک

* کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، تصاویر

’ہم لوگ اندر تھے اور ہمارے دو ساتھی کیمرہ مین باہر تھے جو دونوں دھماکے میں ہلاک ہو گئے، ہم لوگ جیسے ہی باہر آئے تو پر طرف لاشیں نظر آئیں اور وہاں اس وقت دو تین ہی ایسے لوگ نظر آئے جو زمین پر پڑے سانس لے رہے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں

سول ہسپتال کے پیرا میڈیکل سٹاف میں شامل ضیا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وکیل رہنما بلال انور کاسی کی لاش ہسپتال پہنچی تو اس وقت وکلا بھی باہر جمع ہونا شروع ہو گئے۔

وہ اپنے ایک ساتھی کے ساتھ دور سے ان وکلا کو دیکھ رہے تھے اور جیسے ہی انھوں نے ساتھی سے کہا کہ چلو ان کے پاس جاتے ہیں تو دھماکہ ہو گیا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔ ان میں باہر کھڑے وکلا کے علاوہ ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے باہر بیٹھے رشتہ دار بھی شامل تھے۔‘

انھوں نے آبدیدہ آواز میں کہا’جو مناظر میں نے دیکھے وہ بیان نہیں کیے جا سکتے۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی اور میں دیکھا کہ ایک عورت دھماکے کے بعد گم ہو جانے والے بچے کو تلاش کر رہی تھی۔‘

دھماکے کے وقت ہسپتال میں موجود ایک وکیل عبداللطیف نے بتایا کہ وہ بلال کاسی کی ہلاکت کی خبر سن پر اظہار تعزیت کے لیے پہنچے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے وہ ہسپتال میں آ کر’درجنوں وکیلوں کی لاشیں‘ اور زخمیوں کو دیکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک عینی شاہد ولی الرحمان نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دھماکے کے منظر کو خوفناک قراد دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے بعد ’ہر طرف لاشیں‘ تھیں۔

وہ اپنے بیمار والد کو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ لے کر جا رہے تھے جب دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ وہ دونوں زمین پر گر گئے۔

ولی الرحمان نے بتایا کہ جب وہ اٹھے تو انھوں نے لاشیں دیکھیں اور زخمی مدد کے لیے چلا رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ شعبہ حادثات سے 200 میٹر کے فاصلے پر تھے جب دھماکہ ہوا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت ان کا ایک نمائندہ ہسپتال میں موجود تھا۔ اے ایف پی کے صحافی نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ وہ دھماکے کی جگہ سے 20 میٹر کے فاصلے پر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے بتایا کہ: ’گرد اور غبار کے کالے بادل چھا گئے۔ میں بھاگ کر اس جگہ گیا تو دیکھا کہ ہر طرف لاشیں بکھری پڑی ہیں اور بہت سارے زخمی چلا رہے تھے۔ خون بہہ رہا تھا اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ طبی عملہ درجنوں زخمیوں کی مدد کے لیے ہسپتال سے باہر آیا تو’ نرسیں اور وکلا رو رہے تھے، لوگ اپنا سر پیٹ رہے تھے، رو رہے تھے، ماتم کر رہے تھے۔ وہ سکتے اور غم میں تھے۔‘

دھماکے میں زخمی ہونے والے پرویز مسیح نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’جو کوئی بھی یہ کر رہا ہے وہ انسان نہیں ہے، وہ درندہ ہے اور اس میں کوئی انسانیت نہیں۔‘

اسی بارے میں