’دس سالوں کے دوران 43 صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption محمود خان کو ان کی محنت کے نتیجے میں سکیورٹی گارڈ سے کمیرہ مین بنا دیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں دو مزید کیمرہ مینوں کی ہلاکت کے بعد گذشتہ دس سال کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں اور کمیرہ مینوں کی تعداد 43 ہوگئی ہے۔

پیر کی صبح کوئٹہ شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے میں نجی ٹیو چینلوں کے دو کمیرہ مین بھی ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والے کیمرہ مینوں میں شہزاد یحیٰ اور محمود خان شامل ہیں۔

٭ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، ’69 افراد ہلاک‘

٭ ’بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹیں گے‘

نجی ٹی وی چینل آج سے منسلک شہزاد یحیٰ کا شمار کوئٹہ شہر کے انتہائی متحرک کیمرہ مینوں میں ہوتا تھا۔

شہزاد یحیٰ شادی شدہ تھے اور ان کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

وہ کرکٹ اور فٹ بال کے شوقین تھے اور اپریل کے مہینے میں صحافیوں کی دو ٹیموں درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے میں شہزاد یحیٰ ایگلز الیون کے کپتان تھے۔

اسی دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دوسرے کیمرہ مین محمود نجی ٹیی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ وابستہ تھے۔

محمود خان انتہائی محنتی تھے اور ان کی محنت کے نتیجے میں ان کو سکیورٹی گارڈ سے کمیرہ مین بنا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شہزاد یحیٰ کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں

بم دھماکے میں 92نیوز کے کمیرہ مین فتح گلاب اور دنیا نیوز کے سینیئر رپورٹر فریداللہ زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے صحافیوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

سنہ 2008 کے بعد سے صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر حماد اللہ سیاہ پاد نے بتایا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں مجموعی طور پر 43صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوچکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے آٹھ صحافی اور کیمرہ مین بم دھماکوں میں جبکہ باقی ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کے روز کوئٹہ کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے میں اب تک کم از کم 69 افراد ہلاک جبکہ 26 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جنھیں کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں