کوہاٹ میں انڈین خاتون کو قتل کیا گیا، چار افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پولیس نے چاروں افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ چند دن قبل ایک انڈین خاتون نے خودکشی نہیں کی تھی بلکہ انھیں قتل کیا گیا اور اس کیس میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں دو مرد اور دو خواتین شامل ہیں۔

*کوہاٹ میں شادی شدہ انڈین خاتون کی خود کشی

کوہاٹ پولیس کے ضلعی سربراہ صہیب اشرف نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی انڈین خاتون عائشہ کے قتل کا معمہ حل ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کئی دنوں کی مسلسل تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خاتون نے خودکشی نہیں کی بلکہ انھیں قتل کیا گیا اور اس سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چاروں افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل یہ اطلاع آئی تھی کہ مذکورہ خاتون نے خودکشی کر لی ہے تاہم پولیس کی طرف سے تحقیقات کا سلسلہ جاری رہا۔

پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ اس قتل کی تمام تر تفصیلات آج منگل کو کسی وقت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو فراہم کر دی جائیں گی۔

خیال رہے کہ مقتولہ عائشہ کا تعلق انڈیا سے تھا اور انھوں نے تقریباً 15 سال قبل کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شہری عبدالواحد سے دبئی میں پسند کی شادی کی تھی۔

پولیس کے مطابق عائشہ پہلے سکھ مذہب کی پیروکار تھیں تاہم شادی سے پہلے انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہ تین بچوں کی ماں بھی تھیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عائشہ کے خاوند عبدالواحد نے چند سال پہلے دوسری شادی کر لی تھی جس کی وجہ سے گھر میں اکثر اوقات کشیدگی رہتی تھی۔

عائشہ کے دیور عدنان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی بھابی بدستور انڈین شہری تھیں اور انھیں ابھی تک پاکستانی شہریت نہیں ملی تھی۔

عدنان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بھابی نے چند سال پہلے پاکستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی اور ان کا کیس چل رہا تھا جس کے مطابق انھیں اس سال پاکستانی شہریت ملنے کا امکان تھا۔

شادی کے بعد متقولہ عائشہ تین سے چار مرتبہ اپنے والدین سے ملنے انڈیا بھی گئی تھیں۔

اسی بارے میں