کوئٹہ بم حملہ: وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صحافیوں نے مالکان اور حکومت سے تحفظ اور انشورنس کی فراہمی کا مطالبہ کیا

پاکستان میں وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے منگل کے روز کوئٹہ میں وکلا پر ہونے والے خودکش بم حملے کے خلاف احتجاج کیا ہے اور قومی نیشنل ایکشن پلان پر بھی تنقید کی۔

کراچی میں منگل کی صبح وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ایم اے جناح روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر مقتولین کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وکلا کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔‘

’جو وکلا کی کریم تھی، وہ اس واقعے میں شہید ہوگئی ہے۔ وکلا تحریک کے بڑے بڑے رہنما، جیسے داؤد کاسی، باز محمد کاکڑ اور دیگر اس میں شہید ہوگئے، ہمارا حکمرانوں سے یہ مطالبہ ہے کہ فوری طور ملزمان کو گرفتار کریں اور وکلا میں سے عدم تحفظ کا احساس ختم کیا جائے۔‘

منگل کی شام پریس کلب پر صحافی تنظیموں نے آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہزاد خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان کی دھماکے میں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

صحافیوں نے مالکان اور حکومت سے تحفظ اور انشورنس کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

ایک صحافی رہنما شاہد غزالی نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ کیمرہ مینز کو کہتی ہے ’یہ فوٹج بناکر لے آؤ اور قریب سے بناکر لانا، دھماکے کی آواز کیوں نہیں آئی؟ انھیں آواز چاہیے ہوتی ہے اور جب یہ دوست شہید یا زخمی ہوجاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ آپ نے حفاظت کیوں نہیں؟‘

صحافی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کیونکہ جب انھیں اپنی پروجیکشن چاہیے ہوتی ہے تو ٹی وی چینلز کے مالکان کو کہہ کر ان ہی کیمرہ مینز کو بلاکر اپنی پروجیکشن کی جاتی ہے۔ مالکان اپنے کیمروں کی انشورنس کرتے ہیں اس کے ساتھ صحافیوں کی بھی انشورنس ہونا چاہیے۔ حکومت بس بیان دے دیتی ہے آخر پالیسی کیوں نہیں بناتی، صحافیوں کی انشورنس کی بات کیوں نہیں ہوسکتی۔‘

Image caption پاکستان نیشنل پارٹی، پاکستان ورکرز پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی، تحریک حقوق نسواں، عورت فاؤنڈیشن اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی پریس پر اجتماعی مظاہرہ کیا گی

پاکستان نیشنل پارٹی، پاکستان ورکرز پارٹی، عوامی جمہوری پارٹی، تحریک حقوق نسواں، عورت فاؤنڈیشن اور دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی پریس کلب کے سامنے اجتماعی مظاہرہ کیا گیا۔

سول سوسائٹی کی رکن نغمہ خان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں ایک بڑے عرصے سے فورسز موجود ہیں، کوئٹہ دھماکے کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ وہاں کیا کر رہی ہیں۔‘

’ کوئٹہ کے ہر چوک اور کلومیٹر پر ایف سی کی چوکیاں ہیں اور فوج بھی وہاں کب سے ہے، لیکن اس کے باوجود عوام کو کسی قسم کا سکون و چین نہیں۔ وہاں جاکر راحیل شریف کہتے ہیں کہ یہ دھماکہ سی پیک کے نام پر ہوا ہے، دل خون کے آنسو روتا ہے کہ پوری سول سوسائٹی کو اڑا دیا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟‘

پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف اقدام کے لیے تشکیل دیا گیا، قومی ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب بھی ان مظاہروں کے دوران زیر بحث اور زیر تنقید آیا، عورت فاؤنڈیشن اور انسانی حقوق کی رہنما انیس ہارون نے سوال کیا کہ آخر یہ ایکشن پلان کارگر کیوں نہیں ہو رہا۔

’یہ قومی ایکشن پلان ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتا ہم کب سے کہہ رہے ہیں کہ اس پر جو عمل ہونا چاہیے وہ نہیں کیا گیا، جتنی بھی کالعدم تنظیمیں اور گروہ ہیں ان کے لوگ کھلے پھر رہے ہیں۔ اگر یہ قومی ایکشن پلان ان خلاف اقدام نہیں اٹھا سکتا تو پھر یہ کیسا پلان ہے، کوئٹہ واقعے کی وہ تمام ایجنسیاں ذمہ دار ہیں جو بلوچستان کو چلا رہی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں منگل کی صبح وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا

دوسری جانب پشاور میں آرمی پبلک سکول حملے میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کی تنظیم شہدا فاؤنڈیشن کی جانب سے پریس کلب کے باہر شمعیں روشن کی گئیں۔

اس موقعے پر ہلاک ہونے والے بچوں کی مائیں بھی موجود تھیں جنھوں نے کوئٹہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین سے یکہجتی کا اظہار کیا۔

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک اور وکلا تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جبکہ صحافی برادری نے بھی پریس کلب پر سیاہ جھنڈہ لگایا اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جماعت الدعوۃ کی جانب سے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نمازے جنازہ ادا کی گئی۔

اسی بارے میں