’محمود جو تھا اپنے بل بوتے پر بنا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ mehmood
Image caption 25 سالہ محمود نامہ نگار بننا چاہتے تھے

کوئٹہ میں آٹھ سال بحیثیت صحافی کام کرنے کے دوران میں نے کوئٹہ میں جو دوست بنائے ان میں سے بہت سے صحافی دوست بم دھماکوں میں کھو دیے اور کل ان میں مزید کئی ناموں کا اضافہ ہو گیا۔

اگر یہ کہوں کہ کوئٹہ اب نوجوان خوبصورت چہروں سے خالی ہوگیا تو شاید مبالغہ نہیں ہوگا۔

٭’دس سالوں کے دوران 43 صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوئے‘

٭ ’سارے دوست چلے گئے اب کیا کہوں‘

پیر کو سول ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سے متعدد کا میرا کہیں نہ کہیں سامنا ہوا تھا۔

لیکن ان میں کچھ ایسے نام ہیں جن کے بارے میں میں اب بھی تصور ہی نہیں کر سکتا کہ اُن سے اب کبھی ملاقات نہیں ہو سکتی۔

اب نوجوان وکیل باز محمد کاکڑ سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکتی جو کہا کرتے تھے کہ ’میری زندگی کا مقصد غریبوں کی مدد کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں 71 افراد ہلاک ہو گئے

اب وکیل غنی جان آغا سے کبھی ملاقات نہیں ہو سکتی جو سعید ہوٹل اور کبیر بیلڈنگ کی محفل سمیت کوئٹہ کے نوجوانوں کے ہر محفل میں ہنسی خوشی بکھیرنے والے تھے۔

اب اس نوجوان کیمرہ مین شہزاد خان سے بھی کبھی ملاقات نہیں ہو سکتی جو صحافیوں کے احتجاجی جلوسوں میں سب سے پرجوش انداز میں نعرے لگاتے تھے اور سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔

لیکن سب سے بڑھ کر میں کیمرہ مین محمود ہمدرد جیسے ’سیلف میڈ‘ انسان کو اس لیے بھی نہیں بھول سکوں گا کیونکہ اس کے ہاتھ سے بنائے گئے چائے کے لاتعداد کپ پی چکا ہوں۔

محمود کو میں ’خوش اخلاق‘ کہہ کر پکارتا تھا نہ صرف میں بلکہ میرے بعد ڈان کے بیوروچیف نے بھی محمود کو اسی نام سے پکارنا شروع کیا۔

یہ غالباً چھ سال پہلے کی بات ہے جب ڈان نیوز کوئٹہ بیورو میں سکیورٹی پر مامور ایک ہنس مکھ نوجوان سے پہلی ملاقات ہوئی اور ایک ماہ پہلے تک ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

مجھے یاد ہے کہ محمود ہمدرد نے بحیثیت سکیورٹی گارڈ سب سے پہلے یہ بات کی تھی کہ ’میں انگلش کیسے سیکھ سکتا ہوں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھماکے میں آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہزاد خان بھی ہلاک ہو گئے

تب سے وہ اس کشمکش میں تھے کہ انھیں انگریزی سیکھنی ہے اور پھر انھوں نے خود ڈان کے بیوروچیف سے انگلش سیکھنی شروع کر دی۔

بعد میں یہ نوجوان گارڈ سے این ایل ای (ویڈیوایڈیٹر) بنے اور ان کے شوق اور کام سے محبت دیکھ کر ان کو پھر کیمرہ مین کی پوزیشن پر ترقی دی گئی ۔

25 سالہ محمود ہمدرد کے سر سے بچپن ہی میں باپ کا سایہ اُٹھ گیا تھا اور اُنھوں نے انتہائی کسمپرسی کے باوجود بی اے تک کی تعلیم حاصل کی۔

محمود اپنے خاندان میں پہلا اور واحد نوجوان تھا جنھوں نے عصری تعلیم حاصل کی تھی اور آج جو کچھ بھی تھا اپنے بل بوتے پر تھا۔

ان کی خواہش تھی کہ وہ اب ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لیں اور پھر ایک رپورٹر کی حیثیت سے کام کریں لیکن!!!

میں صحرائے محبت کا مسافر تھا فراز...ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

اسی بارے میں