’اب پاکستانی سوشل میڈیا سہما سہما رہے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTA
Image caption وکیل یاسر لطیف کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو صوابدیدی اختیار دینا ٹھیک نہیں ہے

پاکستان میں متنازع سائبر کرائم بل تو منظور کر لیا گیا ہے اور چند ہی روز میں یہ قانون کی حیثیت بھی اختیار کر لے گا لیکن سائبر حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو اب بھی اس پر تحفظات ہیں۔ 55 ترامیم کے بعد بھی ایسے کون سے چیدہ چیدہ نکات ہیں جن کے بارے میں سوشل میڈیا اور آن لائن اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے فکر مند ہیں؟

٭ سائبر جرائم اور ان کی سزائیں

٭ متنازع سائبر کرائم بل قومی اسمبلی سے بھی منظور

پاکستان ٹیلی کمیونیکیش اتھارٹی کے اختیارات

سائبر کرائم بل میں پی ٹی اے کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی متنازع یا مجرمانہ قرار دیے گئے مواد یا ویب سائٹ تک رسائی روک سکتا ہے یا اسے ہٹا سکتا ہے۔

سائبر حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے سے منسلک نگہت داد کا کہنا ہے کہ اس بل میں ایک تو کسی بھی مواد کے مجرمانہ ہونے کے لیے دی گئی وجوہات کی تشریح موجود نہیں ہے اور دوسرا یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کون لوگ ہوں گے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ کوئی بھی مواد یا ویب سائٹ اس زمرے میں آتی ہے۔ اسی لیے کسی ایک ادارے کو اس طرح کا مکمل اختیار دینا مناسب نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption نگہت داد کہتی ہیں کہ لوگ انٹر نیٹ پر مزاحیہ اکاونٹ بنا رکھے ہیں لیکن اب اگر کوئی کسی شخص کا کارٹون بنا کر کوئی پوسٹ لگائے گا تو وہ بھی ایک جرم ہے

نگہت داد کہتی ہیں ’جو روایات اور مثالیں پی ٹی اے نے ماضی میں قائم کی ہیں وہ ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جن میں یوٹیوب کا تین سال کے لیے بند کر دیا جانا اور اچانک ایک حکم نامہ جاری کر دینا جس میں بتایا جاتا ہے کہ لاکھوں ویب سائٹس اس لیے بند کر دی گئی ہیں کیونکہ یہ فحش تھیں۔ اس طرح کے فیصلوں کی وجہ سے لوگوں کا ادارے پر اعتماد ختم ہو گیا ہے۔‘

نگہت داد کو خدشہ ہے ’اگر انٹرنیٹ کمپنیاں، فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل ان کی بات نہیں مانتے تو ماضی میں یوٹیوب کی بندش کی طرح اس اختیار کے تحت انھیں پاکستان میں مکمل بند کر سکتے ہیں۔‘

وکیل یاسر لطیف ہمدانی کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو صوابدیدی اختیار دینا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اداروں میں بیٹھے افراد کے ذاتی خیالات اور مذہبی رجحانات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

’کئی الفاظ کی واضح تشریح نہ ہونے کی وجہ سے کسی بھی آزاد خیال انسان کی ویب سائٹ بند کی جا سکتی ہے اور پی ٹی اے ایسے اقدامات پہلے بھی کر رہا تھا اب بس اسے ایک قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ڈیٹا کچھ مخصوص لوگوں یا مشتبہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کا ہوگا یا ہر عام شہری کی معلومات محفوظ کی جائیں گی

صارفین کا ڈیٹا محفوظ کیا جانا

سائبر کرائم بل میں انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا کم سے کم ایک سال تک محفوظ رکھیں تاکہ حکام اسے کسی بھی قسم کی تفتیش کے لیے حاصل کر سکیں۔

نگہت داد کہتی ہیں کہ یہ ذاتی مواد کے تحفظ کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ ’یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ڈیٹا کچھ مخصوص لوگوں یا مشتبہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کا ہوگا یا ہر عام شہری کی معلومات محفوظ کی جائیں گی اور بحیثیت پاکستان شہری کوئی بھی شخص اپنی معلومات تک رسائی کے خلاف کیا قانونی کارروائی کر سکتا ہے اس کی بھی وضاحت نہیں ہے۔‘

Image caption سپیمنگ کے زمرے میں وہ پیغامات بھی آئیں گے جو لوگ اپنے چھوٹے موٹے کاروبار یا ٹیوشن سنٹرز وغیرہ کی تشہیر کے لیے موبائل پر بھیجتے ہیں

سائبر سٹاکنک، جعل سازی، سپیمنگ

سائبر کرائم بل کے تحت کسی کو غیر مطلوبہ اور غلط مواد بھیجنے پر بھی کڑی سزائیں ہیں۔

یاسر لطیف ہمدانی کا کہنا ہے ’اس غیر مبہم نکتے میں میری کوئی ایسی ای میل بھی آ سکتی ہے جو میں پہلی بار کسی رابطے کے لیے کسی کو کرتا ہوں دوسرا فریق اس کا جواب نہ دے اور وہ اسے میرے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔‘

سائبر سٹاکنگ کے حوالے سے بھی خدشہ پایا جاتا ہے کہ اس کی وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی شخص کسی پر یہ الزام عائد کر سکتا ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کی سزا بھی ایک سال ہے۔

سائبر بل کی ایک شق کے مطابق آپ کسی کی تصویر بلا اجازت انٹرٹیٹ پر نہیں ڈال سکتے۔

نگہت داد کہتی ہیں ’اس میں ذاتی یا عوامی مقامات کی تصاویر کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اگر کوئی شخص کسی عوامی مقام پر کسی جلسے، ریلی، احتجاج، یا کسی تقریب کی تصویر بناتا ہے اور اس کے ساتھ چند مزید لوگ بھی اس میں دکھائی دیتے ہیں تو وہ تصویر لینے اور اسے سوشل میڈیا پر ڈالنے والے کے خلاف شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال رہے کہ آپ کی سیلفی میں کسی اور کی صورت دکھائی نہ دے

’آج کل تو سوشل میڈیا پر سیلفی کا رواج عام ہے اور اس میں پس منظر میں بہت لوگ ہوتے ہیں۔ لوگوں کی ذاتیات میں دخل اندازی کے حوالے سے یہ ایک اچھی چیز تھی اگر اس کی وضاحت کر دی جاتی۔‘

نگہت داد کے بقول ایک عام صارف کے لیے جو سب سے زیادہ پریشان کن عمل جسے جرم قرار دیا گیا وہ ہے سپیمنگ۔

سائبر کرائم بل کے تحت کسی بھی قسم کا جعل سازی پر مبنی پیغام بھیجنے والوں کو تین ماہ قید اور 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

نگہت داد کہتی ہیں ’اس میں وہ لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں جو اپنے چھوٹے کاروبار کی تشہیر کے لیے موبائل پیغامات کا سہارا لیتے ہیں چونکہ ان کے لیے یہ نسبتاً سستا ہوتا ہے۔ اس میں اگر فراڈ، مجرمانہ اور غیر ضروری کی وضاحت کر دی جاتی تو مناسب تھا۔‘

’ساری دنیا میں کہیں بھی سپیمنگ کو جرم قرار نہیں دیا گیا لیکن پاکستان میں اس بل کے تحت اب یہ جرم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption سخت سزاوں کے ڈر سے لوگ اب اپنے اوپر از خود پابندیاں لگائیں گے

سخت سزائیں

سائربر حقوق کے لیے کام کرنے والوں اور سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ کو یہ بھی شکایت ہے کہ معمولی نوعیت کے جرائم کے لیے سزائیں بھی سخت رکھی گئی ہیں اور اس کی وجہ سے سراسیمگی کی فضا قائم ہوگی۔

یاسر لطیف ہمدانی کہتے ہیں ’لوگ اب سوشل میڈیا پر کچھ بھی لکھنے اور کہنے سے پہلے سو بار سوچیں گے اور یہ جمہوریت اور اظہار رائے کے بنیادی حق کے خلاف ہے۔‘

ان کے بقول ’ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انھیں سائبر جرائم کی مکمل آگاہی ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس پر بہترین عمل درآمد کروا سکیں۔ کوئی بھی قانون اس وقت بدترین بن جاتا ہے اگر اس پر عمل کروانے والے جج ہی ٹھیک نہ ہوں۔‘

نگہت داد کہتی ہیں کہ لوگ ان کے اعتراضات پر کہتے ہیں کہ پاکستان میں پہلے کون سے قانون پر عمل ہوتا ہے جو آپ اس پر شور مچا رہے ہیں لیکن ان کے بقول ’ان قوانین میں چونکہ کئی چیزوں کو جرم قرار دیا جا چکا ہے اس لیے انھیں کسی بھی وقت کسی کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

انھیں خدشہ ہے کہ پاکستان میں عام لوگوں کو قوانین کی زیادہ آگاہی نہیں ہے اس لیے اس کے غلط استعمال کا خدشہ بھی زیادہ ہے۔

’ایک ڈر یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے ذاتی جھگڑوں میں بھی اس قانون کو استعمال کریں گے۔ لوگ اب اپنے اوپر از خود پابندیاں لگائیں گے اور وہ بات نہیں کہہ نہیں پائیں گے جو وہ کہنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Yasir Latif
Image caption یاسر لطیف کے بقول اس طرح کے قوانین کو کسی بھی معاشرے میں اقلیتیوں کے خلاف زیادہ استمعال کیا جاتا ہے

ساکھ خراب کرنا، نفرت انگیر مواد

سائبر کرائم بل کے تحت ایسا مواد نشر یا شائع کرنا جرم قرار دیا گیا ہے جس سے کسی شخص کی کردار کشی ہو یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔

نگہت داد کے بقول ’لوگوں نے انٹر نیٹ پر مزاحیہ اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں جہاں طنز و مزاح کیا جاتا ہے لیکن اب اگر کوئی کسی شخص کا کارٹون بنا کر کوئی پوسٹ لگائے گا تو وہ بھی ایک جرم ہے لیکن اس کے پیچھے سیاسی مقاصد دکھائی دیتے ہیں کیونکہ آج کل سیاستدانوں پر طنز مزاح کیا جانا عام ہو گیا ہے۔‘

نفرت انگیز مواد کے حوالے سے یاسر لطیف کے بقول اس طرح کے قوانین کو کسی بھی معاشرے میں اقلیتیوں کے خلاف زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

نگہت داد کہتی ہیں ’اس بل میں انسداد دہشت گردی کے قانون کی شق کو ہو بہو شامل کر دیا گیا ہے جب کہ انٹر نیٹ پر تو روز ہی مباحثے ہوتے ہیں لوگ تنقید کرتے ہیں، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں لوگ گالیاں بھی دیتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ انٹر نیٹ پر ہونے والے جرائم کی تشریح کون کرے گا۔؟‘

اگرچہ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس بل کے تحت کسی بھی جرم کے الزام کی پہلے باقاعدہ تفتیش کی جائے گی اور پھر اس کا مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھیجا جائے گا تاہم کڑی سزاْؤں اور جرائم کے حوالے سے ابہام کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں لوگوں کی ’از خود سنسر شپ‘ کے بعد سوشل میڈیا کا ماحول سہما سہما رہے گا۔

اسی بارے میں