سیاسی و عسکری قیادت کا ٹاسک فورس کے قیام پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption نواز شریف نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے بروقت اور مربوط کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے

وزیر اعظم نواز شریف کی سربراہی میں نیشنل ایکشن پلان سے متعلق ہونے والے اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان سے متعلق اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا۔ جس میں وزیر اعظم نواز شریف، آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے علاوہ دیگر سیاسی و عسکری شخصیات موجود تھیں۔

٭ کوئٹہ:’غیرملکی عناصر کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں‘

٭ ’سانحۂ کوئٹہ میں ایجنسیوں کی ناکامی نظر آتی ہے‘

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے بنائی جانے والی یہ اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں اور ایجنسیوں کے اعلیٰ اہلکاروں پر مشتمل ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر طرح کی کوششوں کو یقینی بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے بروقت اور مربوط کارروائیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور نیشنل سکیورٹی کو یقینی بنانے میں انٹیلی جنس اداروں کا اہم کردار ہے، جس کے لیے انھیں تمام ضروری وسائل اور مدد فراہم کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE
Image caption اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار کے علاوہ دیگر سیاسی و عسکری شخصیات موجود تھیں

دوسری جانب جمعرات کو ہی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ سانحۂ کوئٹہ میں یقیناً ایجنسیوں کی ناکامی نظر آتی ہے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے اور اگر نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ہوتا تو ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جاتا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے مزید کہا ’یہ وزارتِ داخلہ کی ناکامی ہے، اسے سوچنا چاہیے کہ اس کا سدِ باب کیسے ہو؟‘

خورشید شاہ نے مزید کہا کہ ’ہم نے نیشنل ایکش پلان کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیا لیکن وزارت داخلہ نے بہت سے تنازعات کھڑے کر دیے۔‘

خیال رہے کہ کوئٹہ میں دھماکے کے بعد سے ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں