خواتین پر چاقو سے حملہ کرنے والا مبینہ حملہ آور گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں پولیس نے ملازمت پیشہ خواتین پر چاقو سے حملہ کرنے والے ایک مبینہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

جمعرات کی شب میبنہ حملہ آور کو پولیس کے سی ٹی ڈی یونٹ نے ایک کاروائی کے دوران گرفتار کیا تھا اور جمعہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا ہے۔

پولیس نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ ملزم محمد علی کی عمر 24 سال ہے اور وہ کہوٹہ کا رہنا والا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اپنی تعلیم کے سلسلے میں راولپنڈی میں اپنے رشتے داروں کے پاس رہتا تھا۔

اہلکار کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور کو حملے میں زخمی ہونے والی ایک نرس کی شناخت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

مبینہ حملہ آور نے 7 اگست کو فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال میں کام کرنے والے دو نرسوں پر چاقو سے وار کیا تھا جس میں ایک نرس زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی جبکہ ایک زخمی ہوئی تھی۔

ملزم محمد علی مبینہ طور پر لوڈ شیڈنگ کے اوقات میں ملازمت کرنے والی خواتین پر چاقو سے حملہ کرتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم 2015 سے ایسے واقعات میں ملوث ہے اور اُس نے اب تک خواتین پر تقریباً دس سے بارہ حملے کیے ہیں۔

اسی بارے میں