سوشلستان: ’ایک دھماکے نے سنیارٹی بدل دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشلستان کو اپنی جان کے لالے پڑے ہیں؟ جی ہاں پہلے ٹرولز اور سیاسی بوٹس کم نہ تھے کہ اب سائبر کرائم کی تلوار سوشلستان کے باسیوں کے سر پر لٹکنا شروع ہو گئی ہے۔ نجانے اب اُن سوشل میڈیا کی سیاسی و غیر سیاسی ٹیموں کا کیا بنے گا جن کی روزی روٹی ہی دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا تھا؟ مگر سوشلستان میں اس ہفتے کیا موضوعات اہم رہے؟

کوئٹہ دھماکے نے کیسے شہر کی کمر توڑ دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کوئٹہ میں سول ہسپتال کے باہر ہونے والے دھماکے میں شہر کے درجنوں وکلا اپنی جان سے گئے۔ کوئٹہ میں اتنے دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں کہ اب اعداد اور ہلاکتیں معذرت کے ساتھ عام سی لگتی ہیں۔ مگر وکلا کا اتنی بڑی تعداد میں جانا کیا معنی رکھتا ہے؟

کوئٹہ کے ایک سینیئر وکیل برخوردار اچکزئی نے دھماکے کے بعد ٹویٹیں لکھیں جو انہی کے الفاظ میں پیش ہیں۔

کوئٹہ دھماکے کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی اسے ’درست تناظر میں دیکھنے کے لیے اندازہ لگائیں کہ میں اپنا لائسنس کہ میں نے اپنا وکالت کا لائسنس 2010 میں حاصل کیا اور بلوچستان بار کا رکن گذشتہ سال ستمبر میں بنا۔تو میرا بار میں کل عرصہ چھ سال بنتا ہے جس میں سے نو مہینے میں نے کوئٹہ میں گزارے ہیں۔ اس دھماکے کے بعد میرے بیچ کے تمام وکلا اب سینارٹی اور درجہ بندی کے حساب سے صفِ اول کے سو وکلا میں شامل ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے اپنی بات دھراتے ہوئے لکھا ’تمام سینیئر پریکٹس کرنے والا وکلا اور بیرسٹرز آج ہلاک ہوگئے۔ جونیئر وکلا جو اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے اور اب بے روزگار ہوگئے ہیں ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان میں سے اکثریت اپنے خاندانوں میں پہلے تعلیم حاصل کرنے والی نسل میں سے تھے۔‘

برخوردار اچکزئی نے مزید لکھا کہ ہلاک ہونے والے وکلا کے ’والدین کے جھکے ہوئے کندھے، ان کے بھائیوں کو ٹوٹی ہوئی کمریں۔ ان کے بچوں کو ابھی اس عظیم نقصان کا احساس نہیں جو کھیل رہے ہیں اس امید پر کہ ابا جلد لوٹیں گے۔‘

برخوردار اچکزئی کی ٹوئٹر ٹائم لائن کو بیان کرنے کے لیے چشم کشا ایک چھوٹا لفظ ہے اور اگر آپ اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ آخر مسئلہ کیا ہے تو ضرور ان کی ٹائم لائن پر نظر ڈالیں۔

میڈیا کی بریکنگ نیوز کی دوڑ

میڈیا میں پہلے خبر بریک کرنے کی دوڑ نئی نہیں اور تقریباً ہر چینل اس دوڑ میں اپنے ہاتھ جلا چکا ہے۔

لیکن ایک چینل سے وابستہ سینیئر صحافی نے اس حوالے سے ایک اہم تجربہ شیئر کیا جب ایک غلط خبر مختلف چینلز پر نشر ہوئی اور اُن پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ بھی اس خبر کو دیں۔

بالآخر شام تک خبر کی اصل حقیقت سامنے آگئی کہ ایسا کچھ نہیں جو رپورٹ ہوا تھا، اس صحافی کی بات انہی کی زبانی پڑھیے۔

’اگر ایک صحافی تھوڑا سا جھوٹ کے سامنے ڈٹ جائے تووہ نہ صرف اپنی اور پوری برادری کی عزت بلکہ لوگوں کو ذہنی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔ پریشانیوں سے دوچار معاشرے پر رحم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اس دوڑمیں پڑنے کی بجائے اگرہم یہ سوچ لیں کہ تھوڑا صبر کرکے بہترخبردے دیں توجو عزت ملے گی وہ تو ہے ہی لیکن اس کے بدلے میں ہم پورے کلچرکوبدلنے میں کردارادا کرسکتے ہیں۔‘

کسے فالو کریں؟

اس ہفتے ذکر کریں گے انڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سواراج کا جو ٹوئٹر پر بہت زیادہ فعال ہیں۔ آپ کی بیوی کو ویزا نہ ملے، آپ کا پاسپورٹ گُم ہو اور سفارت خانے والے آپ کو گھاس نہ ڈال رہے ہوں یا آپ کی نئی گاڑی بہت زیادہ دھواں چھوڑ رہی ہوں۔ سشما لوگوں کی ٹویٹس کا نہ صرف جواب دیتی ہیں بلکہ ٹوئٹر پر ہی متعلقہ حکام کو ہدایات دیتی ہیں اور مسائل حل کرتی ہیں۔ کاش سرحد کے اس پار بھی حکام کو شعور ملے کے سوشل میڈیا پراپگنڈے کے لیے ہی نہیں جس کی خاطر آپ ٹیمیں تعینات کریں بلکہ عوام کی حقیقی حدمت کرنے اور ان سے رابطے میں رہنے کا ایک اہم اور موثر ذریعہ ہے۔

اس ہفتے کی تصاویر

اس ہفتے کی دو تصاویر جن کے بارے میں یہاں کچھ بھی لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ دونوں اپنی داستان خود سناتی ہیں اور دونوں کا تعلق کوئٹہ کے سانحے سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP