پاکستان کی انڈیا کو کشمیر پر مذاکرات کی باضابطہ دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان اور انڈیا کے سیکریٹری خارجہ نے اپریل میں نئی دہلی میں بھی ملاقات کی تھی

پاکستان نے انڈین سیکریٹری خارجہ کو جموں و کشمیر کے مسئلے پر باقاعدہ بات چیت کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دے دی ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے پیر کو انڈین ہائی کمشنر سے ملاقات میں انڈین سیکریٹری خارجہ کے نام تحریرہ کردہ خط، ان کے حوالے کیا۔

٭ پاکستان کا یومِ آزادی’ کشمیریوں کی آزادی‘ کے نام

٭ انڈیا کا پاکستان سے مذاکرات کے لیے پیشگی شرائط کا اعلان

٭ ’پاکستان کا انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دینے کا فیصلہ‘

بیان کے مطابق اس خط میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے اپنے انڈین ہم منصب کو جموں و کشمیر کے تنازع پر مذاکرات کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں خرابی کی بنیادی وجہ کشمیر کا مسئلہ ہی ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خط میں یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا دونوں پر یہ عالمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کریں۔

پاکستان کی جانب سے سامنے آنے والے بیان میں ان شرائط کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا جن کا اعلان انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے سنیچر کو کیا تھا۔

وکاس سواروپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات کرنا چاہتا ہے اور اُسے مذاکرات کی دعوت دی گئی تو وہ اس کا خیر مقدم کرے گا۔

تاہم انھوں نے اس سلسلے میں چند شرائط بھی رکھی تھیں اور کہا تھا کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ پاکستان ’سرحد کے پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کو روکے، حافظ سعید اور سید صلاح الدین جیسے بین الااقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گردوں کی حمایت کرنا بند کرے اور ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کی تحقیقات کرے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے انڈین پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ انڈیا صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں اُس سے مذاکرات کرے گا اور جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں