بیٹی فروخت کرنے کے الزام میں والدین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں ان دنوں بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کو اپنی نومولود بچی مبینہ طور پر اغوا کار گروہ کے ہاتھوں فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق چار دن پہلے شہر کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث نرسوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پر مشتمل ایک اغوا کارگروہ کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

٭ پشاور: نومولود بچوں کے اغوا میں ملوث گروہ گرفتار

اس کیس کے تفتیشی افسر انسپیکٹر لعل زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے ایک نومولود بچی کو بھی بازیاب کرایا تھا جسے ان کے والدین نے مبینہ طور پرگینگ کے سربراہ کو ایک لاکھ روپے میں فروخت کردیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بچی کے ماں باپ کو اپنی بیٹی فروخت کرنے کے جرم میں پبی کے علاقے سےگذشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔

تفتیشی افسر کے مطابق دونوں ملزمان کو پیر کے روز مقامی عدالت کے سامنے پیش کیاگیا جہاں بچی کے والد کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ بچی کے والد نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے رقم کے عوض اغوا کارگروہ کے سربراہ کے ہاتھوں اپنی بچی کو ایک لاکھ روپے میں فروخت کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ جمعے کو پشاور میں پولیس نے نرسوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پر مشتمل ایسے گروہ کو گرفتار کیا تھا جو نجی اور سرکاری ہسپتالوں سے نومولود بچوں کو اغوا کرنے کے جرم میں ملوث تھا۔

پشاور کے ایس ایس پی عباس مجید مروت نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ انھوں نے اب تک سات افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک نرس دو لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دو آیاؤں کے ساتھ ساتھ دو مرد شامل ہیں۔

یہ گروہ پشاور نوشہرہ مردان اور اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں قائم سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے علاوہ میٹرنٹی ہومز کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا۔

اسی بارے میں