سامعہ کے پہلے شوہر کا اعترافِ جرم، پولیس کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ kazam
Image caption سامعہ شاہد کو ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں قتل کر دیا گیا تھا

پاکستان کے ضلع جہلم کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے پہلے شوہر شکیل نے انھیں قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ڈی ایس پی غیاث الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اُنھوں نے سامعہ شاہد کو اس وقت قتل کیا جب وہ 20 جولائی کو دوپہر کے وقت تیار ہوکر کسی سے ملنے جا رہی تھیں۔

٭سامعہ قتل کیس: والد اور سابق شوہر گرفتار

٭ ’سامعہ کو گلا دبا کر قتل کیا گیا‘

پولیس کے مطابق ملزم شکیل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’مقتولہ نے عبایا پہنا ہوا تھا‘ اور اُس نے ’اسی سے ہی گلا گھونٹ کر اسے قتل کر دیا۔‘

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزم شکیل نے جب سامعہ کو قتل کیا تو مقتولہ کے والد شاہد گھر پر ہی تھے اور اُنھوں نے ملزم شکیل کے ساتھ مل کر اس قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ سامعہ دبئی سے پاکستان آنے کے بعد اسی گھر میں رہی جس میں اُن کا والد اور اس کا پہلا شوہر شکیل رہائش پذیر تھے۔

مقامی علاقےکے ریکارڈ کے مطابق ملزم شکیل ابھی بھی سامعہ کا شوہر ہے جبکہ سامعہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دستاویزات فراہم کی ہیں جس کے مطابق سامعہ نے شکیل سے طلاق لے لی تھی جس کے بعد اُنھوں نے شادی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ kazam
Image caption سامعہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دستاویزات فراہم کی ہیں جس کے مطابق سامعہ نے شکیل سے طلاق لے لی تھی

پولیس کے مطابق مقتولہ ریٹرن ٹکٹ لے کر پاکستان آئی تھی اور 21 جولائی کو انھوں نے واپس دبئی جانا تھا جس کا ذکر انھوں نے کسی سے بھی نہیں کیا تھا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے مطابق مقتولہ کو ان کی والدہ اور بہن نے ٹیلی فون کر کے یہ کہہ کر دبئی سے بلایا تھا کہ ان کے والد کی طبعیت ناساز ہے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ ابھی تک اس قتل کی تفتیش میں مقتولہ کی والدہ اور بہن کا کردار سامنے نہیں آیا تاہم پولیس اس بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ سامعہ کی والدہ اور ان کی چھوٹی بہن کو بھی اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس نے ابھی تک اس مقدمے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں محمد شکیل اور مقتولہ کے والد شاہد شامل ہیں۔

یہ دونوں ملزمان ان دنوں جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں اور انھیں 17 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں