گیارہ شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق

Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مجرمان بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد فیاض کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے انسپکٹر کے قتل کے واقعات میں بھی ملوث ہیں

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گیارہ شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائے موت کی توثیق کی ہے۔ جن گیارہ شدت پسندوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے ان سب کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

* ’پانچ سالوں میں پانچ سو سےزیادہ رحم کی اپیلیں مسترد ‘

ان مجرموں کو ملک بھر میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں میں مختلف مقدمات کی سماعت کے دوران موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ مجرمان فرنٹیر کانسٹیبلری کے اہلکاوں کے علاوہ پاکستانی فوج کے میجر عابد مجید کے قتل میں بھی ملوث تھے۔

اس کے علاوہ یہ مجرمان فرقہ واریت پھیلانے اور ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں اور انھیں ہلاک کرنے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔

جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے اُن میں ضیا الحق ، فضل ربی، محمد شبیر، عمر دراز، لطف الرحمن، محمد عادل، اسرار احمد، عبدالحمید، حضت علی، میاں سید اعظم اور قیصر خان شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مجرمان بلوچستان پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد فیاض کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے انسپکٹر کے قتل کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔

اس کے علاوہ یہ مجرمان عام شہریوں پر حملہ کرنےاور اُنھیں اغوا کرنے کے بعد ان کے گلے کاٹے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ان مجرمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا ہے اس کے علاوہ عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران مجرموں نے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے۔

فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے مجرموں کے ورثا الزام عائد کرتے ہیں کہ اُنھیں ان مقدمات کے بارے میں اُس وقت معلوم ہوتا ہے جب فوجی اہلکاروں کی طرف سے اُنھیں ٹیلی فون کرکے اطلاع دی جاتی ہے کہ اُن کے عزیز کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

اسی بارے میں