یہ بہادری ہے یا بےبسی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دالحکومت اسلام آباد میں بم دھماکے کے بعد کا ایک منظر

’اس کے پاس ایک اٹیچی تھا جس میں کچھ آلات تھے مگر وہ کافی نہ تھے، ہم اس سے جھگڑا کرتے تھے کہ اس کام کو چھوڑو۔‘

یہ الفاظ اے ایس آئی گلزار احمد کے ہیں جن کے بھائی پنل خان جو کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے انچارچ تھے، نےگذشتہ روز بلوچستان کے ضلع صحبت پور میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنا کر بہت سی زندگیوں کی جان تو بچائی لیکن اپنے پانچ کم سن بچوں کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے۔

٭بلوچستان میں بارودی سرنگ ناکارہ بناتے ہوئے اہلکار ہلاک

جب آپ ان کی ہلاکت کی ویڈیو کو دیکھیں تو ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ سالہا سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مصروف پاکستان کے تمام صوبوں میں موجود بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں کی زندگیاں کیا واقعی حادثوں میں جاتی رہی ہیں یا پھر اس کی وجہ ان کی بے بسی اور وسائل کی کمی رہی ہے۔

پنل خان جن کی عمر 40 کے لگ بھگ تھی، نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے خودکش مواد کو تلف کرنے، بم کو ناکارہ بنانے کی ٹریننگ بھی لے رکھی تھی۔

مگر ان کی ہلاکت کی ویڈیو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان کے پاس نہ تو بارودی سرنگ کو فاصلے سے ناکارہ بنانے کا آلہ تھا نہ ہی ان کے ساتھ اور ساتھی تھے جو اردگرد موجود خطرے کو جانچنے کے لیے موجود ہوتے، نہ ہی ویڈیو میں یہ نظر آیا کہ غیر گنجان ہونے کے باوجود وہ بارودی سرنگ کو ناکارہ بنانے کے لیے اس مقام سے فاصلے پر گئے۔

نصیر آباد اور نواحی علاقوں میں سرکل انچارچ انسپکٹر اللہ بخش سیلاچی بتاتے ہیں کہ بلوچستان بھر میں کل 80 سے 100کے لگ بھگ اہلکار خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے ماتحت کام کرنے والے پنل خان نے حفاظتی لباس پہن رکھا تھا اور وہ ضروری آلات سے لیس تھے اس کا جواب میں نفی میں تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں پر کوئی بم سوٹ میسر نہیں تھا، شاید ابھی ہیڈ کواٹر میں بھی نہ ملے۔ ہم ایسے ہی کام کر رہے ہیں۔ایسا ہی واقعہ دو سے تین سال قبل چمن میں بھی پیش آیا تھا۔‘

بلوچستان سے نکل کر پر پنجاب پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی کوئی تسلی بخش صورتحال دیکھنے کو نہیں ملتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں بم سکواڈ کی جانب سے ناکارہ بنایا جانے والا بارودی مواد

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ضلعی انتظامیہ سے منسلک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ صورتحال یہ ہے کہ ’کل چار افراد پر مشتمل عملہ پورے پنڈی ریجن میں مامور ہے، آلات کی بھی کمی ہے جیمرز بھی دستیاب نہیں ہیں۔ بم کو ناکارہ بنانا ہے تو ہم نے ہی بنانا ہے، عدالت میں گواہی دینی ہے تو ہم نے ہی دینی ہے لیکن حالات یہ ہیں کہ بی ڈی ایس کے اہلکاروں کو رِسک الاؤنس (پرخطر حالات میں کام کرنے کا الاؤنس) بھی نہیں دیا جاتا ہے۔‘

لیکن بات صرف الاؤنسز تک محدود نہیں ضلعی انتظامیہ ہو یا پولیس، بم ڈسپوزل سکواڈ کے لیے تاحال الگ بجٹ مختص نہیں ہے اور ملک بھر میں یہ یونٹس فنڈز اور غیر ملکی امداد پر چل رہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اعدادوشمار کے مطابق بی ڈی ایس کے اہلکاروں کی کل تعداد ساڑھے چار سو تک پہنچ چکی ہے جبکہ اب تک اس کے 15 اہلکار مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

کے پی کے میں بی ڈی ایس کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل شفقت ملک کے مطابق اب صوبے میں بی ڈی ایس کے عملے کے لیے تربیتی سکول’ پولیس سکول آف ایکسپلوسیو ہینڈلنگ‘ کام کر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان جیسے ہی حالات سنہ 2007 میں کے پی کے میں بھی تھے اور اگرچہ اب بھی بموں کو ناکارہ بنانے کی سب سے زیادہ کارروائیاں صوبے کے دارالحکومت پشاور میں ہی ہوتی ہیں۔تاہم اب حالات مختلف ہیں جس کی وجہ بی ڈی ایس کی استعداد اور عملے کی تربیت میں اضافہ ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے ان کی نشاندہی کے لیے اور فرانزک رپورٹ کے لیے ضروری آلات بہت مہنگے ہوتے ہیں جس کی دستیابی میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین نے بہت مدد کی ہے۔

ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل شفقت ملک کے مطابق اب تک صوبے میں 9000 بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

صوبوں کی متعلقہ انتظامیہ کے دعوے اور توجیہات اپنی جگہ لیکن بم ڈسپوزل سے متعلق ہی ایک اعلیٰ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پنل خان کی ہلاکت جہاں غفلت کی وجہ سے ہوئی وہیں وسائل کی کمی کی وجہ سے بھی ہوئی۔

وہ کہتے ہیں بارودی سرنگ کو تو ناکارہ 50 میٹر کے فاصلے سے بھی ناکارہ بنایا جاسکتا تھا اور اگر جدید آلات نہیں بھی تھے تو تربیت اور بروقت درست فیصلہ شاید ایک قیمتی جان بچا سکتا تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کے لیے کسی علاقے میں بارودی مواد چھپانا شاید ایک بڑے دھماکے کے مقابلے میں آسان ہوتا ہے تاہم حکام کو اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے کہ عوام کے محافظوں کی اپنی جان اور اعتماد کی بحالی کے لیے ان کی ضروریات بہنچانا پہلا قدم ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں