’ہمارا ہدف محض پاکستان ہے دنیا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جماعت الحرار ٹی ٹی پی کا ایک ذیلی گروپ ہے جو پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے۔

پاکستان میں غیرقانونی قرار دیے جانے والے شدت پسند گروپ جماعت الاحرار نے کہا ہے کہ اس کا ہدف محض پاکستان ہے دنیا نہیں۔

امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے اس گروپ جماعت الاحرار کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں اگست کے اوائل میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ نے شدت پسند تنظیم اور اس کے رہنماؤں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

امریکہ نے گروپ پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہونے کے بعد امریکی حدود کے دائرہ اختیار میں موجود کوئی بھی پراپرٹی، جس میں جماعت الاحرار کا مفاد شامل ہو، بلاک تصور کی جائے گی جبکہ امریکی شہریوں پر بھی اس تنظیم سے لین دین کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔

خیال رہے کہ جماعت الحرار ٹی ٹی پی کا ایک ذیلی گروپ ہے جو پاک افغان سرحدی علاقوں میں سرگرم ہے۔ اس کی تشکیل 2014 میں ٹی ٹی پی کے ایک سابق امیر کے ہاتھوں ہوئی تھی۔

ایک بیان میں گروپ کے سربراہ عمر خالد نے کہا ہے ان کی تنظیم کا داعیش یا القاعدہ سے کوئی الحاق یا تعلق نہیں ہے۔

جماعت الحرار پر داعیش سے تعلق کے الزامات اس کی جانب سے کوئٹہ میں وکلاء پر ہسپتال میں اور لاہور میں ایک پارک جیسے عوامی مقامات پر خودکش حملوں کے بعد سامنے آیا تھا۔

جماعت الحرار نے کسی دوسرے ملک سے امداد حاصل کرنے کے الزام کو بھی مسترد کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی کی مدد کے خواہاں نہیں ہیں۔‘