نیکٹا کی ہیلپ لائن پر جعلی کالیں کرنے والوں کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Olivia Howitt
Image caption شہریوں کی جانب سے گذشتہ ماہ موصول ہونے والی 41 کالز ایسی بھی تھیں جن پر فوری ایکشن لیا گیا: ترجمان

انسداد دہشت گردی کے وفاقی ادارے نیکٹا کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق اطلاع دینے کے لیے فری ہیلپ لائن 1717 پر غلط معلومات فراہم کرنے والے آٹھ شہریوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

جمعے کو اسلام آباد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر احسان غنی نے بتایا کہ یہ کارروائی نیکٹا ٹیلی گراف ایکٹ 1885 کے تحت کی جا رہی ہے۔

نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر احسان غنی نے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق کوئی بھی اطلاع دینے کے لیے صرف گذشتہ ماہ کے 20 دنوں میں موصول ہونے والی آٹھ ہزار سے زیادہ کالز جعلی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ایک شخص نے ہمیں 24 سو مرتبہ کال کی جس کے بعد ہم اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بہت عرصے سے ہمیں جعلی کالز موصول ہو رہی تھیں مگر ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہ بھی ایک ایسے ملک میں جو دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہے۔‘

جعلی کالز کی روک تھام کے لیے احسان غنی نے بتایا کہ ’سب سے پہلے ہم ایسے نمبر کو بلا ک کر دیتے ہیں، پھر بھی اگر کال آئے تو سم بلاک کر دی جاتی ہے اور اگر پھر بھی شہری باز نہ آئے تو ہم مجرمانہ کارروائی کا آغاز کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’جعلی کالز کرنے والے غلط معلومات دینے کے علاوہ کال کر کےگالیاں دیتے ہیں یا پھر نازیبا لطیفے سناتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ شہریوں کی جانب سے گذشتہ ماہ موصول ہونے والی 41 کالز ایسی بھی تھیں جن پر فوری ایکشن لیا گیا۔

سکیورٹی کے امور کے ماہر عامر رانا کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے جعلی کالز کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں ہیلپ لائن کا کلچر زیادہ پرانا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اس کی افادیت سمجھنے میں وقت لگے گا اور جب تک اس طریقہ کار کو آسان نہیں بنایا جاتا تب تک اس کی آگاہی کا فقدان رہے گا۔

اسی بارے میں