ہے کوئی جواب؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

موسمِ گرما کی تعطیلات ختم ہوئیں۔ سکول کھلنے کی خوشی ہے کتابوں اور یونیفارم کی خریداری کی گہما گہمی ہے۔ جن بچوں نے سکول کا کام اب تک مکمل نہیں کیا، ان کی مائیں اور بڑے بہن بھائی ان کے ساتھ لگ کر اسے نمٹوا رہے ہیں۔ جو کام کر چکے ہیں وہ اس بے ایمانی پر کڑھتے پھر رہے ہیں۔

تین ماہ پہلے سکول ایک عجلت میں بند کیے گئے تھے۔ کچھ سکولوں میں امتحانات جاری تھے جنہیں حکمناً منسوخ کرادیا گیا تھا، عذر تھا گرمی، اس جھوٹ پہ تین ماہ گزر گئے اور گرمی بھی خوب پڑی۔

بچے توبچے ہوتے ہیں، ہم خود بھی ایسے زود فراموش کہ بھول بھال گئے۔ چھٹیوں میں گھومے پھرے، رشتے داروں سے ملے، پرانے قضیے نمٹائے، جشن ِ آزادی منایا اور جب سکول کھلنے کا وقت قریب آیا توپیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

حالات تو جوں کے توں ہیں، بلکہ اغوا کاروں کے کچھ مبینہ گینگ بھی منظرِعام پہ آگئے ہیں۔ یعنی حالات بد سے بد ترین ہو چکے ہیں۔

ہمارے ہاں ماؤں کی تربیت میں جو اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، ان میں تسلیم و رضا اور خاموشی سب سے اہم ہیں۔ بس اتنا جانتی ہیں کہ وہ ماں ہیں، بچے اول اللہ کا مال ہیں پھر شوہر کے ہیں اس کے بعد ددھیال کے ہیں۔’ماں بیٹی دو ذات، پھوپھی بھتیجی ایک ذات‘ کی مثل تو سب نے سنی ہو گی۔ ددھیال سے چھوٹے تو بچے قوم کا مستقبل ہو گئے، وہاں سے ہٹے تو ملک کی شان اور ادارے کی آن ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ماؤں کے ہاتھ فقط انھیں پالنے کا کشت آتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خوشی جو کسی پاکستانی ماں کو میسر آتی ہے اور جو فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ بہو کو طعن و تشنیع کے نشتر چبھوتے رہنا۔ اس کے علاوہ نہ ماؤں کی رائے لی جاتی ہے اور نہ انھیں کسی بات میں شریک کیا جا سکتا ہے۔ نظامِ تعلیم، معیارِتعلیم، بچوں کے شعبے کا انتخاب، وہ کس سکول میں پڑھیں گے، کیا پڑھیں گے، کیا بنیں گے؟ یہ سب فیصلے بالا ہی بالا کر لیے جاتے ہیں۔

حتیٰ کہ اکثر گھر انوں میں بچوں کے نام بھی مائیں نہیں رکھتیں بلکہ خاندان کے بڑے بوڑھے رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے ہاں ایک ایک بچے کے کئی کئی نام ہوتے ہیں۔ کوئی دادی کا رکھا ہوا کوئی نانا کا دیا ہوا۔ کوئی پیار کا بگڑا ہوا نام جو جل ککڑی تائی نے اصل نام کا ٹھٹھا اڑانے کے لیے رکھا ہو گا اور اپنے آسان صوتی تائثر کی وجہ سے زیادہ مشہور ہو جاتا ہے۔

ہر پاکستانی باپ اپنے بچوں کو افلاطون یا کم سے کم ڈاکٹر، انجینیئر تو دیکھنا ہی چاہتا ہے اور اس کا نسخہ ایک ہی ہے۔ بچوں کو ڈانٹنا اور ڈانٹتے ہی رہنا۔ جب نتیجہ ۔تا ہے تو ظاہر ہے چند بچے ہی ماں باپ کی توقعات پہ پورا اترتے ہیں۔ باقی سب کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس میں ماں کا کردار ایدھی کے رضا کار سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔

ہزراہا بچے فارغ التحصیل ہو کر جن شعبوں میں اپنی عمر جھونک بیٹھتے ہیں وہ ان کے لیے نہ بنے تھے۔ ان کی مائیں ہی جانتی تھیں کہ وہ اصل میں کیا کرنا چاہتے تھے لیکن مائیں بچوں کے لیے کچھ نہیں بول سکتیں کیونکہ ہٹلر باپ پہلے ہی بلا وجہ نعرہ بلند کیے رکھتے ہیں کہ، ’دیکھ لیے کرتوت اپنے لاڈلے کے؟‘

ماں کا جرم اپنے بچے سے پیار کرنا ہے۔ کون سی ماں ہو گی جسے اپنے بچے سے پیار نہیں ہو گا؟ بچوں کے لیے ماں اپنی جان بھی دے سکتی ہے لیکن سوال نہیں کر سکتی۔

آج جب تعطیلات کے بعد سکول کھلنے والے ہیں تو پاکستان کی لاکھوں ماؤں کی جان سولی پہ اٹکی ہوئی ہے۔ سوائے اس کے کہ تین ماہ گزر گئے اور تبدیلی کیا آئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ epa

کیا کسی ذمہ دار شخصیت نے ٹی وی پر آکر ماؤں کو اعتماد میں لیا؟ کیا کوئی بیان جاری ہوا کہ اب سکول محفوظ ہیں؟ سوائے سکولوں کی درجہ بندی اور اس درجہ بندی پہ چند ڈھیلے ڈھالے اقدامات کے کیا فرق ہے جو جون سے لے کے آج تک پڑگیا؟

گھریلو ملازمہ سے لے کر بینک کی صدر تک سب مائیں ایک ہی طرح سے پریشان ہیں۔ جو شخص سکولوں کی سکیورٹی کی ضمانت دے گا کیا وہ صرف ایک روز کے لیے اپنی سکیورٹی چھوڑ کے ان سکولوں میں بیٹھ سکتا ہے؟ کسی کو اس بات سے غرض ہے کہ آیا مائیں اس سکیورٹی سے مطمئن ہیں کہ نہیں؟

خدا پہ بھروسہ صرف ماؤں کا مقسوم کیوں؟ کاش ساری مائیں ایک آواز ہو کر کہیں، ’یہ کرتوت ہمارے لاڈلوں کے نہیں، آپ کے لاڈلوں کے ہیں آپ ہی بھگتیں‘۔ مگر ہمیں چپ رہنا سکھایا جاتا ہے۔ ہم خاموشی سے بچوں کو سکول روانہ کریں گی اور دعا کرتی رہیں گی کہ یا اللہ ہمارے بچوں کو محفوظ رکھنا۔ پاکستانی ماں اس کے سوا کر بھی کیا سکتی ہے؟

اسی بارے میں