افغان پولیس کے خلاف خیبر ایجنسی میں مظاہرہ

Image caption چند مہینوں سے پاکستان نے پاک افغان سرحد طورخم پر افغانستان سے آنے افراد کےلیے سفری دستاویزات لازمی قرار دی ہیں

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں درجنوں ٹرانسپورٹروں نے افغان پولیس کی جانب سے پاکستانی ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرہ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں زخہ تکیہ کے مقام پر منعقد ہوا جس میں خیبر ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداروں اور ڈرائیوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرین نے بعد میں خیبر مارکیٹ تک احتجاجی مارچ بھی کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر افغان فورسز کے خلاف نعرے درج تھے۔

خیبر ٹرانسپورٹ یونین کے صدر شاکر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے افغانستان جانے والے پاکستانی ڈارئیوروں کو سرحد پار تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان سے ہزاروں روپے کی رشوت طلب کی جاتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگر ڈرائیور پیسے دینے سے انکار کرتا ہے تو افغان فورسز اور پولیس کے اہلکار انھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے ڈرائیور اور عوام بھی پاکستان کی پولیس سے تنگ ہیں جس سے دونوں طرف نفرت بڑھتی جارہی ہے۔

شاکر آفریدی نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے اپیل کی کہ دونوں جانب تجارتی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جائے ورنہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس کے منفی اثر سے نہیں بچ سکتے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے آر پار سختیاں بڑھنے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں نقصان ٹرانسپورٹروں کا ہی ہوا ہے۔

شاکر آفریدی کے مطابق اس سلسلے میں افغان ٹراسپورٹروں کی یونین ’ شمشاد ٹولنہ’ سے دو مرتبہ مزاکرات بھی کیے گئے لیکن انھوں نے بھی یہ کہہ کر معزوری ظاہر کردی کہ یہ ان کی بس کی بات نہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سلسلہ مزید چلتا رہا تو ٹرانسپورٹرز کے پاس ٹرانسپورٹ کا کام بند کرنے کے علاوہ کوئی اور حل موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’دونوں ممالک کے ٹرانسپورٹروں کےلیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پاسپورٹ اور ویزہ لے کر ایک دوسرے کے ممالک میں سفر کریں‘

سرحد پر حالیہ پابندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے شاکر آفریدی نے کہا کہ دونوں ممالک کے ٹرانسپورٹروں کےلیے یہ ممکن نہیں کہ وہ پاسپورٹ اور ویزہ لے کر ایک دوسرے کے ممالک میں سفر کریں۔

انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ مالکان کے پاس مستقل طورپر ڈرائیور نہیں ہوتے اس لیے ان کے لیے ویزوں کی پابندی پر عمل درامد کرنا مشکل ہے اور یہی حال افغان ڈرائیوروں کا بھی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان نے طورخم پر افغانستان سے آنے افراد کے لیے سفری دستاویزات لازمی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں