ایم کیو ایم کا ہیڈکوارٹر سیل، متعدد رہنما ’تحویل میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کے نجی چینل اے آر وائی کے دفتر پر حملے اور ہنگامہ آرائی کے بعد رینجرز نے کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو اور سے ملحقہ دفاتر کو سیل کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ رینجرز نے ایم کیو ایم کے تین رہنماؤں کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا ہے۔

پیر کے روز کراچی میں نجی چینل اے آر وائی کے دفتر اور قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعات اور فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔

٭ ’قانون توڑنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے‘

٭کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف ایم کیو ایم کی بھوک ہڑتال

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس واقعے کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کے خلاف بولنے والوں کو ایک ایک لفظ کا حساب دینا ہو گا۔

اس واقعے کے بعد رینجرز اہلکاروں کا ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر نائن زیرو اور اس کے اطراف میں واقع عمارتوں میں تقریباً چار گھنٹے تک آپریشن جاری رہا اور بعد میں رینجرز کے کمانڈر بریگیڈئیر خرم شہزاد نے میڈیا کو بتایا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے نائن زیرو، خورشید بیگم سیکریٹریٹ، شعبہ اطلاعات کے دفتر اور ایم پی اے ہاسٹل کو سیل کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ریاست مخالف پرنٹ اور الیکٹرانک مواد کے علاوہ اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بریگیڈئیر خرم شہزاد کے مطابق اس آپریشن میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار اور رہنما خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز حکام کراچی پریس کلب کے باہر سے پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئے۔

سندھ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر نے اے آر وائی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سے ٹی وی چینل پر حملے اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔

اس کے بعد رینجرز حکام نے ٹی وی میزبان اور ایم کیو ایم کے رہنما عامر لیاقت کو بھی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ان کے دفترسے تحویل میں لے لیا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی رہنما خواجہ اظہارالحسن کے ہمراہ کراچی پریس کلب پہنچے تھے، جہاں وہ میڈیا سے بات کرنا چاہتے تھے لیکن رینجرز حکام نے انہیں روک دیا تھا اور بعد میں انھیں پوچھ کچھ کے لیے پانے ساتھ لے گئے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اس واقعے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں امن و امان کے حوالے سے ایک اعلیٰ کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ڈی جی رینجرز اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس سے پہلے ڈی جی رینجز میجر جنرل بلال اکبر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے انہیں کہا ہے کہ جنھوں نے بھی یہ ہنگامہ آرائی کی ہے، ان کو گرفت میں لایا جائے اور وہ ہر صورت میں پکڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث لوگوں کے خلاف پولیس اور رینجرز آپریشن کر رہی ہے اور رات تک وہ پکڑے جائیں گے۔

پولیس کے ڈی ایس پی قمر آصف کے مطابق سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے قریب کارکنوں نے مدینہ مال میں واقع اے آر وائی کے دفتر اور زینب مارکیٹ میں واقع دوکانوں پر پتھراؤ کیا۔

پولیس کے مطابق اس واقعے میں 15 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ڈی ایس پی صدر کنور آصف، ایس ایچ او پیر شبیر، پولیس کانسٹیبل راشد علی، نیو ٹی وی کے ملازم نعمان اور ریحان، سماء کے سفیر احمد اور چینل 24 کے ملازم عثمان شامل ہیں۔ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عارف سعید کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس وقت تک 12 افراد کو ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے

ڈی ایس پی قمر آصف کے مطابق یہ ایم کیو ایم کارکن اپنی جماعت کے قائد الطاف حسین کی تقریر سننے کے بعد مشتعل ہوگئے اور جس میں انھوں نے کہا کہ طے ہوا ہے کہ آپ اے آر وائی اور سما ٹی وی چینل کے دفتر کا رخ کر لیا۔

خیال رہے کہ پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف بھوک ہڑتال کی جا رہی تھی۔

اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پریس کلب کے قریب مدینہ شاپنگ مال کی چھٹی منزل واقع ان کے چینل کے دفتر میں ایم کیو ایم کے کارکنان نے گھس کر فائرنگ اور توڑ پھوڑ کی۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کا احتجاج ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ ’الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے پر پابندی کسی چینل نے نہیں بلکہ عدالت نے لگائی ہے اور اگر انھیں کوئی شکایت ہے تو پیمرا سے بات کریں۔‘

سلمان اقبال نے مزید کہا کہ ان کے غریب اور بےقصور کارکنان کو نشانہ بنانا کسی طور بھی جائز نہیں کہا جا سکتا اور یہ قابلِ مذمت عمل ہے۔

ادھر ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت ابھی معاملات کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے بعد ہی اپنا تفصیلی مؤقف پیش کرے گی تاہم جو بھی وہاں ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔

فاروق ستار نے مزید کہا کہ ’ایسا کرنے والے ایم کیو ایم کے کارکنان نہیں ہو سکتے کیونکہ ایم کیو ایم تو گزشتہ تین سال سے صبر کر رہی ہے تو پھر وہ ایسا کیوں کرتی۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ چند شرپسند عناصر کا کام ہے جنھیں جلد ہی بے نقاب کیا جائے گا۔

دوسری جانب رینجرز کی بھاری نفری نے پریس کلب اور اس کے آس پاس کے علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پریس کلب کے باہر لگا ہوا ایم کیو ایم کا احتجاجی کیمپ بھی اکھاڑ دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت شر پسندوں کو کسی صورت میں معاف نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں