سانحہ کوئٹہ: وکلا کی جانب سے احتجاجی تحریک کی دھمکی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی وکلا برادری نے کہا ہے کہ اگر سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داران کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

٭ ’سارے دوست چلے گیے اب کیا کہوں؟‘

٭کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ

اس بات کا اعلان وکیل رہنماؤں نے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے کوئٹہ دھماکے کے خلاف احتجاج کرنے والے وکلا سے خطاب کے دوران کیا۔

کوئٹہ میں چند روز قبل ہونے والے خود کش حملے میں درجنوں وکلاء کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کی کال پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سینیٹر فروع نسیم نے دی تھی۔

سنیٹر فروع نسیم کا کہنا تھا کہ اُنھیں حکومت سے کوئی اُمید نہیں ہے کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش اور ہلاک ہونے والے افراد کے خاندان کی مالی امداد میں کوئی پیش رفت دکھائے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ وکلا برادری خود ہی اس بارے میں لائحہ عمل تیار کر کے اس پر عمل درآمد کروائے گی۔

سینکٹرؤں وکلا اس واقع کے خلاف پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے جمع تو ہو گئے لیکن اس واقعہ سے متعلق وکلاء برادری میں یکجہتی کا عنصر دیکھنے کو نہیں ملا۔

جماعت اسلامی کے امیر سنیٹر سراج الحق وکلاء برادری کے ساتھ اس سانحے سے متعلق اظہار یکجہتی کرنے کے لیے آئے۔ سراج الحق نے تقریر شروع کی تو جماعت اسلامی کے مخالف وکلاء نے اُونچی آواز میں نعرے لگانا شروع کردیے۔

اس طرح جب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن تقریر کرنے لگے تو حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نوازاور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حامیوں نے اُنھیں تقریر نہ کرنے دی جس کے بعد وہ تقریر کیے بغیر واپس چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئٹہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے 70 افراد میں نصف سے زیادہ وکیل تھے

سنیئر وکیل کرنل ریٹایرڈ انعام الرحیم نے بی بی سی کو بتایاکہ وکلاء کی طرف سے اس طرح کا رویہ کسی طور پر بھی وکلاء کے مسائل کے حل کے لیے موثر ثابت نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےسابق صدر علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ احتلافات کے باوجود وکلاء برادری اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے وکیلوں کی خاندانوں کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کو نامعلوم افراد نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ جب وکلا کی ایک بڑی تعداد اُن کی لاش کولینے کے لیے ہسپتال پہنچی تو ایک نامعلوم خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکےسے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے جن میں اکثریت وکلا کی تھی۔