سانحۂ کوئٹہ: وکلا کا 17 ویں روز بھی عدالتوں کا بائیکاٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہ کوئٹہ میں ضلع کچہری اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں واقع مختلف عدالتوں میں روزانہ سینکڑوں مقدمات سماعت کے لیے لگتے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سانحہ کوئٹہ کے بعد دو ہفتے سے زائد عرصے سے وکلا کے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث بلوچستان میں عدالتی نظام بڑی حد تک مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔۔

کوئٹہ شہر میں روزانہ سائلین کی ایک بڑی تعداد اپنے مقدمات کے حوالے سے ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں میں آتی ہے لیکن عدالتوں میں مقدمات کی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔

بلوچستان میں ہائیکورٹ کی اگرچہ سبی اور تربت میں بھی بینچ قائم ہیں لیکن زیادہ تر مقدمات کی سماعت کوئٹہ کی پرنسپل بینچ میں ہوتی ہے۔

بلوچستان بار کونسل کے رکن منیر احمد کاکڑ نے بتایا کہ ہائیکورٹ میں روزانہ دو سو سے ڈھائی سو مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

16 روز سے جاری وکلا کے ہڑتال کی وجہ سے ان میں سے صرف ضمانت سے متعلق مقدمات کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت پر وکلا پیش نہیں ہوتے۔

ہائیکورٹ کے علاوہ کوئٹہ میں ضلع کچہری اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں واقع مختلف عدالتوں میں روزانہ سینکڑوں مقدمات سماعت کے لیے لگتے ہیں۔

بار کونسل کے رکن منیر کاکڑ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سائلین کے مشکلات کی پریشانی کا انھیں احساس ہے لیکن اس وقت وکلا کی توجہ اپنے زخمی ساتھیوں کی جانب ہے۔

وکلا تنظیموں کے مطابق سانحہ کوئٹہ میں 56 وکیل ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔

اسی بارے میں