نوشہرہ میں پیش امام سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نظام پور پولیس سٹیشن کے انچارج صفدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کو سر میں گولیاں ماری گئی ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں حکام کا کہنا ہے کہ تین افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

مرنے والوں میں ایک مسجد کے پیش امام بتائے جاتے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ لاشیں جمعرات کی صبح نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں جبئی کے مقام پر سڑک کے کنارے سے ملی ہیں۔

نظام پور پولیس سٹیشن کے انچارج صفدر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد کو سر میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

ان کے مطابق مرنے والوں میں دو کی عمریں 22 سال کے لک بھگ جبکہ تیسرے شخص کی عمر 27 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ دو افراد کی شناخت کرلی گئی ہے جن کا تعلق صوابی سے ہے اور جن کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مرنے والوں میں ایک صوابی کی مسجد میں پیش امام تھے جو صوابی کے ایک مشہور مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والے افراد شدت پسندی میں ملوث تھے یا وہ عام شہری تھے جبکہ ان کی ہلاکت کے محرکات بھی تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ ایک نامعلوم شخص کی لاش امانتاً مقامی قبرستان میں سپرد خاک کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ نوشہرہ میں پہلے بھی مختلف علاقوں سے سڑک کے کنارے لاشیں ملنے کے کئی واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم کچھ عرصے سے یہ واقعات کافی حد تک کم ہوگئے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ ماضی میں قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے بھی لاشیں ملنا ایک معمول بن گیا تھا تاہم شدت پسندی کے واقعات میں کمی کی وجہ سے لاشیں ملنے کے واقعات بھی کافی حد تک کم ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں